’ایران جنوبی امریکہ میں دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے‘

Image caption یہودی اکثریت والی آبادی آمیا میں بم دھماکے میں 85 افراد مارے گئے تھے

ارجنٹینا کے ایک وکیلِ استغاثہ نے ایران پر الزام لگایا ہے کہ وہ جنوبی امریکہ کے ملکوں میں ’دہشت گردانہ کارروائیوں‘ کی پشت پناہی کر رہا ہے۔

البرتو نسمان نے کہا کہ ایران برازیل، چلی، کولمبیا اور خطے کے دوسرے ملکوں میں جاسوسی کے مراکز قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

نسمان بیونس آئرس کے یہودی علاقے آمیا میں 1994 میں ہونے والے ایک بم دھماکے کی تحقیقات کر رہے ہیں جس میں 85 افراد مارے گئے تھے۔

ایران نے ہمیشہ اس حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

لیکن بدھ کو ایک وفاقی جج کو پیش کی جانے والی فردِ جرم میں نسمان نے اس دعوے کا اعادہ کیا کہ ایران نے اس بم حملے کی سرپرستی کی تھی۔

انھوں نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ خطے میں ایک مذموم منصوبے پر کام کر رہا ہے۔

نسمان نے تقریباً 20 برس قبل ہونے والے بم دھماکے کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا، ’میں ایران کو قانونی طور پر کئی جنوبی امریکی ملکوں میں سرایت کر جانے کا موردِ الزام ٹھہراتا ہوں، دوسرے الفاظ میں اس نے جاسوسی کے اڈے قائم کر رکھے ہیں، جن کا مقصد آمیا جیسے حملے کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور سرپرستی کرنا ہے۔‘

Image caption میں ایران کو قانونی طور پر کئی جنوبی امریکی ملکوں میں سرایت کر جانے کا موردِ الزام ٹھہراتا ہوں، دوسرے الفاظ میں اس نے جاسوسی کے اڈے قائم کر رکھے ہیں، جن کا مقصد آمیا جیسے حملے کرنا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا اور سرپرستی کرنا ہے: البرتو نسمان

انھوں نے دعویٰ کیا کہ بیونس آئرس میں ایران کے سابق کلچرل اتاشی محسن ربانی سرایت کرنے کے اس مبینہ عمل کے نگران تھے۔ ارجنٹینا ان پراس حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتا ہے۔

فروری میں ارجنٹینا کے قانون سازوں نے ایران کے ساتھ ایک معاہدہ طے کیا تھا جس کی رو سے آمیا حملے کی تحقیقات کے لیے ایک سچائی کمیشن قائم کیا جائے گا۔

ارجنٹینا کی حکومت نے اس کمیشن کی تجویز بم حملے کی تحقیقات کو بحال کرنے کے لیے پیش کی ہے، لیکن بعض یہودی تنظیموں نے اس پر تنقید کی ہے۔

ارجنٹینا نے اس حملے کے ضمن میں کئی ایرانی شہریوں اور ایک لبنانی شہری کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں