طاقت کا توازن شامی فوج کے پاس ہے: بشار الاسد

Image caption شامی صدر بشار الاسد نے یہ بات ایک لبنانی ٹی وی کو انٹرویو میں کہی ہے جس کے بعض حصے الخبار نامی لبنانی اخبار نے شائع کیے ہیں

شام کے صدر بشار الاسد کا کہنا ہے کہ شام میں جاری تنازع میں حالیہ کامیابیوں کے بعد طاقت کا توازن اب شامی فوج کے حق میں ہے۔

شامی صدر بشار الاسد نے یہ بات ایک لبنانی ٹی وی کو انٹرویو میں کہی۔

انہوں نے کہا کہ حکومتی افواج نے حال ہی میں باغیوں کے خلاف ’بڑے پیمانے کامیابیاں‘ حاصل کی ہیں اور اب اس تنازع میں ’طاقت کا توازن‘ شامی فوج کے حق میں ہے۔

صدر بشار الاسد نے کہا کہ شام نے حال ہی میں روس کی جانب سے جدید ترین روسی فضائی نگرانی کا نظام بھی حاصل کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان ہتھیاروں کی دوسری کھیپ شام کو جلد ہی موصول ہو جائے گی۔

خیال رہے کہ روس نے اس ہفتے کے آغاز میں شام کو ایس 300 میزائیل بھجوانے کے ارادے پر عملدر آمد جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ میزائل ایک بہترین فضائی دفاعی نظام بناتے ہیں جن کی مدد سے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل داغے جاتے ہیں جو جنگی جہاز گرا سکتے ہیں اور بیلاسٹک میزائل بھی روک سکتے ہیں۔

حزب اللہ کے المنار ٹی وی کو دیا گیا بشار الاسد کا یہ انٹرویو جمعرات کی شام نشر کیا جائے گا۔

اس انٹرویو کے بعض اقتباسات کو شامی حکومت کے حامی لبنانی اخبار الخبار نے شائع کیا ہے۔

صدر بشار الاسد نے کہا ’شامی فوج نے مسلح باغیوں کے خلاف بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں اور اب اس تنازع میں طاقت کا توازن شامی فوج کے حق میں ہے۔‘

شام کے وزیر خارجہ ولید معلم نے اسی طرح کا بیان بدھ کو دیا تھا جس میں انہوں نے لبنانی میڈیا کو بتایا کہ شامی فوجوں نے اب قوت پکڑ لی ہے۔

صدر بشار الاسد نے المنار ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ شام اور لبنان حزب اللہ ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں یا پھر ایک ہی محور پر ہیں۔

انھوں نے ترکی، قطر، سعودی عرب کی جانب سے باغیوں کی حمایت پر تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ اس وقت تک ایک لاکھ غیر ملکی جنگجو شام کی سرزمین پر لڑ رہے ہیں۔

ادھر شامی حکومت مخالف تنظیم فری سیرین آرمی کے ایک رہنما جنرل سلیم ادریس نے الزام عائد کیاہے کہ حزب اللہ کے جنگجو شام میں دراندازی کر رہے ہیں۔

یہ بات انھوں نے بی بی سی کو ایک انٹرویو کے دوران کہی۔

جنرل ادریس نے بی بی سی کی ورلڈ سروس کے پروگرام ’نیوز آور‘ میں جذباتی انداز میں مغربی طاقتوں سے استدعا کی ’ہم مر رہے ہیں۔ برائے مہربانی آ کر ہمیں بچا لو۔‘

انھوں نے کہا کہ فری سیرین آرمی قصیر کی جنگ میں صرف ڈیڑھ ہزار جنگجو استعمال کر رہی ہے، جن کے پاس صرف ہلکا اسلحہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ قصبے میں 50 ہزار سے زائد شہری پھنسے ہوئے ہیں، اور اگر یہ سرکاری فوج کے ہتھے چڑھ گیا تو ’قتلِ عام‘ شروع ہو جائے گا۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں یہ اطلاع ملی ہے کہ ایرانی جنگجو بھی اس حملے میں حصہ لے رہے ہیں۔

جنرل ادریس نے جلاوطن شامی حزبِ اختلاف سے مطالبہ کیا کہ وہ اندرونی چپقلش بند کر دیں اور فوری طور پر اگلے ماہ جنیوا میں ہونے والی امن کانفرنس میں شرکت کریں۔

شام کی حکومتی افواج نے حزب اللہ کے جنگجوؤں کی مدد سے قصیر کے قصبے کے شمال میں واقع ایک فضائی اڈے پر قبضہ کر لیا تھا۔

شام میں حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سویلین افراد کے لیے ایک راہداری بنائی ہے جس سے وہ لڑائی سے بچ کر نکل سکتے ہیں۔

اسی بارے میں