’کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا منصوبہ پکڑا گیا‘

Image caption عراقی اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی مشترکہ کوشش سے ہی یہ گرفتاریاں ممکن ہو پائیں: محمد العسکری

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کے کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں یورپ اور شمالی امریکہ سمگل کرنے کی منصوبہ بندی کا پردہ فاش کیا ہے۔

عراقی وزارتِ دفاع کے ترجمان محمد العسکری کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن کی سرگرمیوں پر عراقی فوج کے خفیہ ادارے تین ماہ سے نظر رکھے ہوئے تھے۔

انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران اعصاب شکن گیسوں سمیت کیمیائی مادے تیار کرنے والی تین ورکشاپ کا پتہ بھی لگایا گیا ہے۔

ان ورکشاپس سے چھوٹے ریموٹ کنٹرول طیارے بھی ملے ہیں۔

بغداد میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق محمد العسکری نے بتایا کہ شدت پسند ان طیاروں کا استعمال 1.5 کلومیٹر کے’محفوظ‘ فاصلے سے ہدف پر زہریلی گیس کا چھڑکاؤ کرنے کے لیے کرنے والے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ زیرِ حراست پانچوں ملزمان نے اپنا جرم قبول کرتے ہوئے بتایا ہے کہ انہیں القاعدہ کی ایک ذیلی شاخ سے اس بارے میں ہدایات ملی تھیں۔

عسکری کا کہنا تھا عراقی اور غیر ملکی خفیہ ایجنسیوں کی مشترکہ کوشش سے ہی یہ گرفتاریاں ممکن ہو پائیں۔

سمجھا جاتا ہے کہ عراق میں موجود القاعدہ ایسی واحد تنظیم ہے جو کیمیائی ہتھیار استعمال کر چکی ہے۔ اس نیٹ ورک نے عراق میں اکتوبر 2006 سے جون 2007 کے درمیان 16 دیسی کلورین بموں کے دھماکے کیے تھے۔

ان دھماکوں کے نتیجے میں سانس لینے کے عمل کے دوران لوگوں کے جسم میں کلورین چلی گئی تھی جس کی وجہ سے سینکڑوں لوگ بیمار پڑ گئے تھے لیکن کسی کی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔

امریکی خبر رساں ادارے سی این این کے مطابق القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن نے اپنی موت سے پانچ دن پہلے یمن میں سرگرم اپنی تنظیم کے ان لوگوں کو ایک خط لکھا تھا جن کے بارے میں اسامہ کو لگتا تھا کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں.

اس خط میں اسامہ نے اپنے ساتھیوں کو وارننگ دی تھی کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں سیاسی رائے اور میڈیا میں ردعمل کا مکمل مطالعہ کیے بغیر اس کے استعمال سے گریز کریں۔

اسی بارے میں