چلی کے معروف ہوٹل کی جگہ اپارٹمنٹس

والدیويا ہوٹل

جنوبی امریکی ملک چِلی میں گزشتہ پچاس برسوں سے بہترین خدمات اور سہولتیں فراہم کرنے والے معروف لّو ہوٹل (Love Hotel) کو بند کیا جا رہا ہے۔

لّو ہوٹل کے نام سے مشہور والدیويا ہوٹل سنہ 1959 میں چلی کے دارالحکومت سینٹیاگو میں بنایا گیا تھا اور یہ ہوٹل چلی آنے والے غیر ملکی سیاحوں کے درمیان بھی انتہائی مقبول تھا۔

اس ہوٹل کو ایک بیوہ كوراليا كيوزيادا نے جنوبی سینٹیاگو میں شروع کیا تھا۔ کم عمر میں ہی بیوہ ہونے والی كوراليا کا ارادہ اس ہوٹل کے ذریعے محبت کرنے والے جوڑوں کو تنہائی کے لمحے فراہم کرانا تھا۔

والدیويا کے ہوٹل میں مختلف تھیم کے تحت کمرے بنائے گئے تھے۔ مورش پلیس، جاپانی روم، مصری محل وغیرہ۔

اس کے علاوہ ہر کمرے کو شاندار طریقے سے سجایا گیا تھا۔ فانوس کے علاوہ بجلی کی مختلف قسم کی مصنوعات سے کمرے کو پرکشش بنایا گیا تھا۔

كوراليا خاندان کے افراد دنیا بھر کا سفر کر کے اس ہوٹل کو سجانے کے لیے سامانوں کی خريدداري کیا کرتے تھے۔

چینی کمرے میں موجود بلند قامت پھولدان ہو یا پھر افریقی کمرے میں موجود دلکش زیبرا پرنٹ۔ یہاں آنے والے اس سے متوجہ ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے تھے۔

امیزن کمرے میں گملوں میں لگے پودے اور منی واٹر پلانٹ بھی لوگوں کو کافی پسند آتے تھے۔

ان سب کے علاوہ ہوٹل میں ایک ڈسکو روم بھی موجود ہے، جس میں ایک پنجرہ بھی تھا اور پول ڈانسنگ کے لیے پول بھی۔

لیکن اب ہوٹل کے مالکان نے اسے فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس زمین پر اب اپارٹمنٹس بنائے جائيں گے۔

یہی وجہ ہے کہ اس ہفتے ہوٹل کی تمام چیزوں کی نیلامی کی جا رہی ہے۔

اس ہوٹل میں گزشتہ 42 سالوں سے کام کرنے والی لے يونور وینزوئیلا کہتی ہیں: اس فیصلے سے میں بہت اداس ہوں۔ اس ہوٹل سے بہتر جگہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتی۔ یہ ایک شاندار جگہ ہے۔

جب یہ ہوٹل پہلی بار کھلا تھا، اس وقت اس میں صرف سات کمرے تھے۔.

آخ بند ہونے کے وقت اس ہوٹل میں 48 کمرے موجود ہیں۔ ایک تجزیہ کے مطابق یہ ہوٹل بالغوں کے لیے ڈزنی لینڈ سے کم نہیں تھا۔

اس ہوٹل کے بارے میں ٹائم میگزین اور رولنگ سٹون جیسے جریدوں نے نمایاں رپورٹ شائع کی تھی، جس کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی یہاں بھیڑ لگ گئی۔

كوراليا کے پوتے اور ہوٹل کے آپریشن منیجر روڈریگو مونٹی نیگرو بتاتے ہیں کہ ایک سویڈش جوڑا یہاں ایک دن کے لیے آیا تھا، لیکن اسے یہ ہوٹل اتنا پسند آیا کہ کہ وہ پانچ دن کے لیے یہاں ٹھہر گیا۔

روڈریگو کے مطابق بعد میں اس جوڑے نے ای میل کرکے بتایا کہ پانچ دنوں میں انہوں نے پانچ براعظم دیکھ لیے۔

اس ہوٹل میں ٹھہرنے والی مشہور شخصیات کے بارے میں پوچھنے پر روڈریگو مسکراتے ہوئے کہتے ہیں ’والدیويا ہوٹل کی کوئی ياداشت نہیں ہے۔‘

والدیويا ہوٹل میں گزشتہ 22 سالوں سے کام کر رہی فلومینا گايتے کہتی ہیں ’جب ہم اپنے مہمانوں کا استقبال کرتے تھے، جب ہم ان کی مہمان نوازی کرتے تھے، ان کے کمرے صاف کرتے تھے، تب ہم ایک دم گونگے، بہرے اور اندھے بن جاتے تھے۔‘

سنہ 2010 میں چلی میں 8.8 شدت کا زلزلہ آیا تھا۔ اس زلزلے نے وسطی اور جنوبی چلی میں کافی تباہی مچائی تھی۔

تاہم اس زلزلے میں بھی یہ ہوٹل صحیح سلامت رہا لیکن اس مہینے یہ ہوٹل بند ہو جائے گا۔

ہوٹل کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ سینٹیاگو میں ایک دوسرا لو ہوٹل کھولیں گے، لیکن ہوٹل والدیويا جیسا لو ہوٹل دوسرا نہیں ہو پائے گا۔