شام: حکومت مخالف لڑائی میں امریکی خاتون ہلاک

Image caption شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ہلاک ہونے والی خاتون کے امریکی پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائینس کا عکس دکھایا ہے

امریکی ریاست مشیگن کی ایک خاتون کے اہلِ خانہ کو تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے مطلع کیا ہے کہ وہ شام میں باغیوں کے ہمراہ حکومتی فوج سے لڑائی میں ہلاک ہو گئی ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی رائٹرز مطابق ہلاک ہونے والی خاتون کی رشتہ دار نے بتایا کہ 33 سالہ نکول مینسفیلڈ نے پانچ سال قبل اسلام قبول کر لیا تھا۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے ہلاک ہونے والی خاتون کے امریکی پاسپورٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کا عکس دکھایا ہے۔ تصویر میں خاتون نے حجاب پہن رکھا تھا۔

خاتون کے رشتے دار نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا کہ ایف بی آئی نے گھر آ کر نکول مینسفیلڈ کی ہلاکت کی اطلاع دی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ نکول ہلاکت کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

امریکہ کے مقامی اخبار کے مطابق نکول نےمسلمان ایک عربی سے شادی کی جس سے اُن کی ایک بیٹی بھی ہے۔ شوہر سے علیحدگی کے بعد وہ مسلمان ہی رہیں اور عربی ثقافت کے بارے میں جاننے کے لیے وہ دبئی چلی گئیں۔

اخبار کے مطابق ہلاک ہونے والی امریکی خاتوں صحتِ عامہ کے شعبے سے وابستہ تھیں اور اُن کے والد امریکی گاڑیاں بنانے والی کمپنی جنرل موٹرز میں ملازمت کرتے تھے۔

اُن کی دادی نے اخبار کو بتایا کہ ’وہ دل کی بہت اچھی تھیں لیکن جلد لوگ کی باتوں میں آ جاتی تھی اور مجھے لگتا ہے کہ کسی نے اُن کی سوچ بدلنے کی کوشش کی ہے۔‘

شام میں انسانی حقوق کے مبصرگروہ نے کہا ہے کہ شام میں جاری لڑائی میں اب تک تین غیر ملکی ہلاک ہوئے ہیں جن میں امریکی خاتون سمیت دو برطانوی مرد بھی شامل ہیں۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں برطانوی شہری مسلمان تھے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم گروہ کا کہنا ہے کہ غیر ملکی افراد ترکی کی سرحد کے قریب مارے گئے۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق مبصر مشن کے ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ ’انہیں (غیر ملکیوں) ادلیب میں گھات لگا کر مارا گیا اور اُن کے پاس سے عسکری اہمیت کے نقشے ملے ہیں۔‘

شام میں جاری لڑائی میں وہ پہلی امریکی ہیں جو ہلاک ہوئی ہیں۔

اسی بارے میں