وکی لیکس: بریڈلے میننگ کا کورٹ مارشل

Image caption بریڈلے میننگ نے ان پر لگائے گئے 22 الزامات میں سے دس کا اعتراف کیا ہے

امریکی تاریخ میں خفیہ دستاویزات کی سب سے بڑی لیک یا راز افشا کرنے کے الزام میں گرفتار امریکی فوجی بریڈلے میننگ کو فورٹ میڈی میری لینڈ کی ایک عدالت میں کورٹ مارشل کا سامنا ہے۔

چیس سالہ بریڈلے میننگ نے اس بات کا اعتراف کر لیا ہے کہ عراق کے شہر بغداد میں انٹیلیجنس تجزیہ کار کے طور پر کام کرتے ہوئے انہوں نے 2009 اور 2010 میں ہزاروں کی تعداد عراق، افغانستان کی جنگی رپورٹیں، سفارتی اور دوسرے خفیہ دستاویزات اور دو وڈیو کلپس ویکی لیکس کو فراہم کیے۔

انہوں نے ان پر لگائے گئے 22 الزامات میں سے دس کا اعتراف کیا ہے تاہم انہوں نے امریکہ کے دشمن کی مدد کرنے کے الزام کو ماننے سے انکار کیا ہے۔

اگر بریڈلے میننگ کو ان جرائم کا مرتکب پایا گیا تو انہیں 154 سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

بریڈلے میننگ کو عراق میں خدمات دینے کے دوران مئی دو ہزار دس میں گرفتار کیا گیا تھا۔ انہوں نے خفیہ دستاویزات کو لیک کرنے سے انکار نہیں کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے وکی لیکس کو امریکہ کی خارجہ اور فوجی پالیسی کے بارے میں عوام کو روشناس کرانے کے لئے معلوماتی دستاویزات فراہم کیے اور انہیں نہیں لگا کہ ان کے اقدامات سےامریکہ کو نقصان پہنچے گا۔

تاہم امریکہ کے سرکاری وکیلوں کا کہنا ہے کہ اس لیک سے امریکہ کی سکیورٹی کو نقصان پہنچا اور امریکیوں کے زندگیوں کو خطرے میں ڈالا گیا۔

توقعہ ہے کہ درجنوں گواہان اس مقدمہ کے دوران بیانات قلمبند کرائیں گے۔

بریڈلے میننگ کے ساتھ حراست کے دوران بدسلوکی کی بنیاد پر ایک جج نے حکم دیا ہے کہ ان کو جو بھی سزا ملے گی اس میں 112 دن کی کمی کی جائے گی۔

بریڈلے میننگ کے وکیل ڈیوڈ کومبز نے فورٹ مینڈی میں جمع ان کے حمایتوں کا شکریہ ادا کیا۔

یاد رہے کہ دنیا بھر میں بریڈلے میننگ کے حمایتیوں کا خیال ہے کہ ان دستاویزات کو منظرِ عام پر لانا ضمیر کی آواز تھی۔ بریڈلے میننگ کو بہت سے لوگ ہیرو کے طورپر مانتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جنگی جرائم سے پردہ ہٹایا اور خِلیجی ممالک میں عرب سپرنگ کے نام سے یاد کیے جانے والے جمہوریت کے لیے تحریک کو متحرک ہونے میں مدد کی۔

اسی بارے میں