’چار روز سے جاری مظاہرے ترک سپرنگ نہیں‘

ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف چار روز سے جاری مظاہرے ’ترک سپرنگ‘ کا عندیہ نہیں دیتے اور یہ مظاہرے شدت پسند عناصر کرا رہے ہیں۔

یہ بات ترکی کے وزیراعظم نے مراکش کے دورے پر روانہ ہونے سے قبل ایک پریس کانفرنس میں کہی۔

انہوں نے حزبِ اختلاف پر الزام لگایا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ’شدت پسند عناصر یہ مظاہرے کرا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے استنبول کے پارک کے حوالے سے اب نہیں رہے۔ حزب اختلاف کی جماعت سی ایچ پی میرے معصوم شہریوں کو ورغلا رہی ہے۔ وہ لوگ جو اس کو ترک سپرنگ کا نام دے رہے ہیں وہ ترکی کو نہیں جانتے۔‘

اس سے قبل ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں کے چوتھے دن استنبول کے علاقے بسکتاس میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان اب تک کی بدترین پرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں۔

بسکتاس میں ہزاروں مظاہرین نے اتوار کو وزیراعظم کے دفتر کے قریب احتجاج کیا اور وہاں فٹ پاتھ کے پتھر اکھاڑ کر رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔

ان جھڑپوں کے بعد علاقے میں مساجد، دکانوں اور ایک یونیورسٹی کو عارضی ہسپتالوں کی شکل دی گئی ہے جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

ان مظاہروں کا آغاز استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ہوا تھا اور ان کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر علاقوں تک پھیل گیا تھا۔

ان مظاہروں میں اب تک سینکڑوں افراد زخمی ہو چکے ہیں جبکہ ترک وزیرِ داخلہ معمر گلیر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اب تک ملک کے 67 شہروں میں 1700 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن میں سے کچھ کو بعدازاں رہا بھی کر دیا گیا۔

خیال رہے کہ یہ گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے ہیں۔

یہ مظاہرے استنبول کے غازی پارک میں ایک چھوٹے سے دھرنے سے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ غازی پارک استنبول میں موجود چند سرسبز مقامات میں سے ایک ہے اور حکومت اس کے تحفظ کے لیے ان کی اپیلوں پر غور نہیں کر رہی۔

جب پولیس نے جمعہ کو دھرنا دینے والوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس استعمال کی تو ان کا دائرہ پھیلنے لگا۔

نامہ نگاروں کے مطابق یہ مظاہرے اب حکومت کی جانب سے ترکی کی ’اسلامائزیشن‘ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔

اسی بارے میں