یورپ میں بدترین سیلاب سے تباہی

یورپ کے وسطی ممالک میں بدترین سیلاب کے باعث ہزاروں افراد بےگھر جبکہ چھ ہلاک ہو گئے ہیں اور جرمنی نے ہزاروں فوجیوں کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں تعینات کیا ہے جو سیلاب سے منتاثر ہوئے ہیں۔

سیلابی ریلا وسطی یورپ میں تباہی مچانے کے بعد اب شمال اور مشرق کی جانب بڑھ رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ اب تک سیلاب کے نتیجے میں چھ افراد کی ہلاکت کے علاوہ کم از کم آٹھ افراد لاپتہ ہیں۔

سیلابی ریلا دریائے ڈینوب اور ایلب میں شامل ہو گیا ہے اور اس سے مزید تباہی کا خدشہ ہے۔

جرمن چانسلر آنگیلا میرکل نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور متاثرین کے لیے ایک سو ملین یوروز کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا۔

دوسری جانب چیک رپبلک کے دارالحکومت پراگ میں سیلاب کے پانی کی سطح کم ہونا شروع ہو گئی ہے۔

جمہوریہ چیک کے دارالحکومت پراگ میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے اور سیلابی پانی سے شہر کے تاریخی مرکز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ریڈیو پراگ کے مطابق شہر اور مضافاتی علاقوں سے تین ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ شہر کے چڑیا گھر کے جانوروں کو بھی منتقل کیا جا رہا ہے۔

Image caption جرمنی نے ہزاروں فوجیوں کو ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں تعینات کیا ہے

شہر میں زیِر زمین ریلوے سروس اور سکولوں کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ وزیراعظم پیٹرنیکس نے کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں فوج کے ایک ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ شہر کے وسط سے گزرنے والے دریا کے کناروں پر دھاتی تختوں اور ریت سے بھری بوریوں کو نصب کیا جا سکے۔

جرمنی، آسٹریا اور جمہوریہ چیک میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور بعض علاقوں میں بدترین سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جرمنی کے علاقے ایلنگبرگ میں سات ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔

آسٹریا میں محکمۂ موسمیات کے مطابق دو ماہ کی بارش صرف دو دنوں میں برس گئی۔ سالزبرگ میں 300 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے جبکہ ایک شخص ہلاک ہو گیا۔

علاقے میں ہونے والی امدادی کارروائیوں میں فوج سول انتظامیہ کی مدد کر رہی ہے۔

اسی بارے میں