شام کا تنازع: اردن میں امریکی ایف 16 اور میزائل

Image caption یہ واضح نہیں ہے کہ اردن میں کتنے ایف 16 طیارے بھیجے جائیں گے

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ شام کی طرف سے خطرے کا مقابلہ کرنے میں مدد دینے کے لیے ایف 16 طیاروں اور پیٹریاٹ میزائل کی بیٹری اردن بھیجے گا، اور ممکنہ طور پر انھیں وہیں رکھا جائے گا۔

ایک امریکی عہدے دار نے کہا کہ یہ اسلحہ ’اردن کی سرحد کے ساتھ بڑھتے ہوئے تشدد‘ کے پیشِ نظر وہیں رکھا جا سکتا ہے۔

وزیرِ خارجہ جان کیری نے کہا کہ شام مکمل تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔

اسی دوران اقوامِ متحدہ شام میں انسانی حقوق کی پامالی کے بارے میں تازہ ترین رپورٹ شائع کرنے والی ہے۔

یہ اپنی نوعیت کی پانچویں رپورٹ ہے اور بڑے پیمانے پر توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مزید شواہد شامل ہوں گے۔

یہ رپورٹ اس وقت آ رہی ہے جب امریکہ اور روس اس ماہ کے آخر میں امن مذاکرات ترتیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ فی الحال اس بات کا فیصلہ نہیں ہوا کہ آیا یہ جیٹ اور میزائل لانچر اردن میں رکھے جائیں گے یا نہیں۔

انھوں نے کہا، ’اردن کے ساتھ ہمارے اتحاد اور خطے میں حالات کے پیشِ نظر اور اردن کی سرحد کے ساتھ بڑھتے ہوئے تشدد کو دیکھتے ہوئے اگر درخواست کی گئی تو کچھ (اسلحہ) مشقیں ختم ہونے کے بعد بھی اردن کی مسلح افواج کی مدد کے لیے چھوڑا جا سکتا ہے۔‘

یہ واضح نہیں ہے کہ کتنے ایف 16 طیارے بھیجے جائیں گے۔ نیٹو کی جانب سے پہلے ہی ترکی کی شام کی سرحد کے ساتھ پیٹریاٹ میزائل کی بیٹریاں نصب کی جا رہی ہیں۔

یہ بیٹریاں سکڈ میزائلوں کو روکنے کے لیے لگائی گئی ہیں لیکن یہ ممکنہ طور پر نو فلائی زون بھی قائم کروا سکتی ہیں۔

امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ پر اندرونِ ملک اور بیرونِ ملک دباؤ بڑھتا جا رہا ہے کہ وہ شام کے خلاف کارروائی کرے۔

جان کیری نے امن کانفرنس منعقد کروانے کی کوششوں کے بارے میں کہا، ’یہ بہت مشکل عمل ہے، جو ہم نے دیر سے شروع کیا ہے۔‘

انھوں نے کہا: ’ہم کوشش کر رہے ہیں کہ فرقہ وارانہ فسادات شام کو مکمل طور پر تباہی کے گڑھے میں نہ لے جائیں جس کے بعد وہ دھڑے میں منقسم ہو جائے اور ریاست کے ادارے تباہ ہو چکے ہوں۔‘

امن کانفرنس کا مقصد حکومت اور باغی گروہوں کے نمائندوں کو مذاکرت پر مائل کرنا ہے تاکہ گذشتہ برس شائع ہونے والے جنگ بندی اور عبوری حکومت کے منصوبے پر بات چیت کی جا سکے۔

اسی بارے میں