شمالی کوریا کا ایٹمی ریکٹر ’تکمیل کے قریب‘

Image caption یونگ بیون کے ریکٹر کو دوبارہ چالو کرنے میں ’ایک سے دو ماہ لگ سکتے ہیں‘

ایک امریکی تھنک ٹینک نے کہا ہے کہ شمالی کوریا یونگ بیون کے بند پڑے ہوئے ایٹمی ریکٹر کو بحال کرنے میں ’اہم‘ پیش رفت کر رہا ہے۔

تھنک ٹینک کے مطابق ریکٹر کی تکمیل میں ایک سے دو ماہ لگیں گے، لیکن یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا اس ریکٹر کو چلانے کے لیے ایندھن کی سلاخیں مل سکیں گی یا نہیں۔

شمالی کوریا نے اپریل میں جزیرہ نما میں سخت کشیدگی کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ اس ریکٹر کو بحال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

یہ ریکٹر 2007 میں امداد کے بدلے تخفیفِ اسلحہ کے معاہدے کے تحت بند کر دیا گیا تھا۔

اس ریکٹر کو ٹھنڈا رکھنے والے مینار کو گرا دیا گیا تھا، تاہم بعد میں تخفیفِ اسلحہ کا معاہدہ تعطل کا شکار ہو گیا۔

شمالی کوریا کی جانب سے ریکٹر کو بحال کرنے کا یہ فیصلہ فروری میں تیسرے جوہری تجربے کے بعد کیا گیا جس کے باعث اقوامِ متحدہ نے شمالی کوریا پر پابندیاں عائد کر دی تھیں۔

یہ رپورٹ 38 نارتھ ویب سائٹ پر دی گئی ہے جو امریکی یونیورسٹی جانز ہاپکنز میں امریکہ کوریا انسٹی ٹیوٹ کا حصہ ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سیٹیلائٹ تصاویر سے معلوم ہوتا ہے کہ شمالی کوریا نے ’ریکٹر چلانے کے لیے کولنگ سسٹم کی مرمت کا کام تقریباً ختم کر لیا ہے۔‘

گرائے جانے والے کولنگ ٹاور کو دوبارہ تعمیر نہیں کیا گیا، البتہ اس کی جگہ ایک ثانوی نظام استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ استعمال شدہ ایندھن کے ایک مرکز پر بھی کام جاری ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس جگہ پر عمارتی سامان کے ڈھیر پڑے ہوئے ہیں اور ریکٹر سے پانی کی نکاسی کے لیے ایک نئی خندق کھودی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریکٹر ’چالو ہونے میں دو سے تین ماہ لے گا۔ البتہ ریکٹر کو تازہ ایندھن کے راڈوں کی فراہمی ابھی واضح نہیں۔ یہ وہ اہم مرحلہ ہے جس پر اس بات کا انحصار ہے کہ ریکٹر کب چالو کیا جاتا ہے۔‘

چالو ہونے کے بعد ریکٹر ’تقریباً چھ کلوگرام پلوٹونیم سالانہ تیار کر سکے گا، جسے ایٹمی اسلحہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکے گا۔‘

شمالی کوریا 2006 سے جوہری تجربے کر رہا ہے۔

فروری میں تازہ ترین تجربے کے بعد شمالی کوریا نے امریکہ اور اس کے علاقائی مفادات کو کئی دھمکیاں دی تھیں، اور یونگ بیون کو بحال کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا اور جنوبی کوریا کے ساتھ تجارتی تعلقات اور سرکاری مواصلات منقطع کر دی تھی۔

اسی بارے میں