ترکی: ٹریڈ یونین بھی احتجاج میں شریک

ترکی میں کئی روز سے احتجاج کی لہر جاری ہے اور ملک کی سب سے بڑی ٹریڈ یونین فیڈریشن نے بھی احتجاج میں شریک ہونے کا اعلان کیا ہے۔

بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ٹریڈ یونین فیڈریشن کیسک نے ایک اعلان میں کہا ہے کہ وہ دو روز تک احتجاج میں حصہ لے گی۔

گیارہ مختلف ٹریڈ یونین پر مشتمل فیڈریشن کیسک کے ممبران کی تعداد دو لاکھ چالیس ہزار بتائی جاتی ہے۔

ترکی میں گزشتہ کئی روز سے مظاہرے جاری ہیں جس میں اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں جبکہ سترہ سو افراد کو گرفتار کرنے کی تصدیق کی گئی ہے۔گرفتار کیے جانے والے مظاہرین میں سے بعض کو رہا کیا جا چکا ہے۔

ٹریڈ یونین فیڈریشن کیسک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترک حکومت پرامن مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال کر کے ’ریاستی دہشتگردی‘ کی مرتکب ہو رہی ہے جس سے لوگوں کو زندگیوں کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ کیسک نے کہا کہ حکومت ملک میں جمہوریت کے مستقبل کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔

پولیس اور مظاہرین کا پیر کی رات کو بھی ٹکراؤ ہوا۔

البتہ ترکی کے وزیر اعظم طیب اردوگان پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق مراکش کے دورے پر روانہ ہو گئے ہیں۔

ترک وزیر اعظم نے مراکش روانگی سے پہلے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ترکی میں حالات معمول پر آ رہے ہیں۔

ترکی میں جاری احتجاج میں اب تک دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ انقرہ کے گورنر کے دفتر سے بائیس سالہ عبداللہ کومرٹ کی موت کی تصدیق کی گئی ہے۔ عبداللہ کومرٹ کا تعلق ریپبلیکن پیپلز پارٹی سے ہے۔اس سے پہلے بیس سالہ محمت ایولیٹس کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے۔

ترکی میں مظاہرے پھوٹنے کے بعد صدر عبد اللہ گل اور وزیر اعظم طیب اردوگان کے مابین اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ترک صدر نے زیادہ مصالحتی رویے کا مظاہرہ کیا ہے جبکہ ترک وزیر اعظم سخت موقف اختیار کر رکھا ہے۔

ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان کا کہنا ہے کہ حکومت کے خلاف چار روز سے جاری مظاہرے ’ترک سپرنگ‘ کا عندیہ نہیں دیتے اور یہ مظاہرے شدت پسند عناصر کرا رہے ہیں۔انہوں نے حزبِ اختلاف پر الزام لگایا کہ وہ لوگوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا’شدت پسند عناصر یہ مظاہرے کرا رہے ہیں۔ یہ مظاہرے استنبول کے پارک کے حوالے سے اب نہیں رہے۔ حزب اختلاف کی جماعت سی ایچ پی میرے معصوم شہریوں کو ورغلا رہی ہے۔ وہ لوگ جو اس کو ترک سپرنگ کا نام دے رہے ہیں وہ ترکی کو نہیں جانتے۔‘

ان مظاہروں کا آغاز استنبول میں ایک عوامی باغ کی جگہ پر سلطنتِ عثمانیہ دور کی بیرکس اور اس میں ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے کے بعد ہوا تھا اور ان کا دائرہ انقرہ سمیت دیگر علاقوں تک پھیل گیا تھا۔

خیال رہے کہ یہ گزشتہ کئی سالوں میں ترکی میں سب سے بڑے اور منظم حکومت مخالف مظاہرے ہیں۔

یہ مظاہرے استنبول کے غازی پارک میں ایک چھوٹے سے دھرنے سے شروع ہوئے تھے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ غازی پارک استنبول میں موجود چند سرسبز مقامات میں سے ایک ہے اور حکومت اس کے تحفظ کے لیے ان کی اپیلوں پر غور نہیں کر رہی۔

جب پولیس نے جمعہ کو دھرنا دینے والوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسوگیس استعمال کی تو ان کا دائرہ پھیلنے لگا۔

نامہ نگاروں کے مطابق یہ مظاہرے اب حکومت کی جانب سے ترکی کی ’اسلامائزیشن‘ کی کوششوں کے خلاف احتجاج کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

رجب طیب ارگان کی حکومت 2002 سے ترکی میں برسرِ اقتدار ہے۔ ان کی جماعت اے کے پارٹی کی سیاسی جڑیں اسلام میں ہیں لیکن اردگان کہتے رہے ہیں کہ وہ ترکی میں سیکولر ازم کے حامی ہیں۔

اسی بارے میں