شامی حکومت نے سارین گیس استعمال کی: فیبیوس

Image caption فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فیبیوس نے فرانس کے ٹی وی چینل فرانس ٹو سے ایک انٹرویو میں شامی حکومت پر سارین گیس استعمال کرنے کا الزام عائد کیا

فرانسیسی وزیر خارجہ لوراں فیبیوس نے کہا کہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ شامی حکومت نے اپنے ملک میں جاری بحران کے دوران سارین گیس استعمال کی ہے۔

لوراں فیبیوس نے کہا کہ پیرس میں کیے گئے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ کئی بار نرو ایجنٹ نامی کیمیائی استعمال کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا کہ جنہوں نے ان ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے انہوں سزا ملنی چاہیے۔

فرانسیسی وزیرِ خارجہ نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ یہ کیمیائی ہتھیار کہاں استعمال کیے گئے اور وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اس کے بارے میں مزید شواہد کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب شامی حکومت نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر جھوٹ کہ کر رد کر دیا ہے۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ’یقین کرنے کے شواہد‘ ملے ہیں کہ شام میں حکومتی فورسز نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

ایک اور تازہ رپورٹ میں اقوام متحدہ کے شام میں تحقیقاتی کمیشن نے بیرونی قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام میں اسلحہ کی فراہمی میں اضافہ نہ کریں۔

فرانسیسی وزیر خارجہ نے فرانس کے ٹی وی چینل فرانس ٹو سے ایک انٹرویو میں سارین گیس کے استعمال کے حوالے سے کہا کہ ’اس بات میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ شام کی حکومت اور اس کے آلہ کار اس کے زمہ دار ہیں‘۔

لوراں فیبیوس نے کہا کہ پیرس میں حاصل کیے گئے کیمیائی تجزیوں کے نتائج اقوامِ متحدہ کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اس سلسلے میں تمام آپشن استعمال کیے جاسکتے ہیں جن میں کارروائی کرنا یا نہ کرنا شامل ہے اور یہ کہ مسلح کارروائی کی جائے اس جگہ پر جہاں یہ کیمیائی ہتھیار رکھے گئے ہیں۔‘

ان کیمیائی نمونوں کو جن میں خون اور پیشاب کے نمونے شامل ہیں فرانس کے بڑے اخبار ’لا مونڈ‘ کے صحافی شام سے سمگل کر کے باہر لے کر آئے ہیں۔ یہ نمونے شامی دارالحکومت دمشق اور شمالی قصبے سراقب سے حاصل کیے گئے تھے جہاں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

سارین ایک بے رنگ اور بے بو گیس ہے جس کا استعمال کئی ممالک کی جانب سے ممنوع ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ایسی معلومات سامنے آئی ہیں جس میں مارچ اور اپریل میں چار مواقع ایسے تھے جن میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی طرف نشاندہی ہوتی ہے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس ب ات کو خارج نہیں کیا جا سکتا کہ باغیوں نے بھی کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہوں۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب شام کے حوالے سے امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے تاریخ کا تعین کیا جا رہا ہے۔

جنوری پندرہ سے مئی پندرہ تک کے چار مہینوں میں تفتیش کاروں نے قتلِ عام کے سترہ واقعات کا ریکارڈ تیار کیا ہے۔

اس رپورٹ میں پہلی دفعہ منظم طریقے سے محاصرہ کرنے، کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے اور زبردستی بے گھر کرنے کے واقعات کو قلم بند کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ’اتنے شواہد موجود ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سرکاری سکیورٹی فورسز نے انیس مارچ کو حلب میں خان الاصل، انیس مارچ میں دمشق میں اوتیبا، تیرہ اپریل کو حلب میں شیخ مقصود کے مضافات ا ور انتیس اپریل کو صوبہ ادلیب میں سراکب پر حملوں کے دوران محدود مقدار میں کیمیائی مواد استعمال کیا۔‘

لیکن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجود شواہد سے یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ کس قسم کا کیمیائی مواد استعمال کیا گیا اور اس کو کس نے کس طرح استعمال کیا۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کی انکوائری کمیشن نے شامی حکومت سےاقوامِ متحدہ کے کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین کو شام میں داخلے کی اجازت دینے کے لیے کہا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں کشیدگی ’ظلم اور بربریت کی نئی حدوں کو چھور رہی ہے‘ جو فریقین کی طرف سے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا مرتکب ہونے کے مترادف ہے۔

اسی بارے میں