امریکہ کی طرف سے قصیر کے محاصرے کی مذمت

Image caption قصیر میں کوئی ایسی عمارت نہیں بچی جو جنگ سے متاثر نہ ہوئی ہو

امریکہ نے شامی فوج کے قصیر پر حملے کی مذمت کی ہے۔ قصیر وہ اہم دفاعی قصبہ ہے جس پر شامی فوج نے خونریز محاصرے کے بعد قبضہ کر لیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے ایران اور اس کے لبنانی حلیف حزب اللہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام سے جنگجو واپس بلا لیں، جہاں وہ شامی فوج کی مدد کر رہے ہیں۔

بی بی سی کی ایک ٹیم جب قصیر گئی تو اس نے دیکھا شہر ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔

اسی دوران فرانس نے کہا ہے کہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال ’بین الاقوامی برادری کو عمل پر مجبور کر رہا ہے۔‘

تاہم صدر فرانسوا اولاند نے خبردار کیا: ’ہم صرف بین الاقوامی قانون کے دائرے ہی میں رہ کر کام کر سکتے ہیں۔‘

ان کے اس بیان سے چند گھنٹے قبل شامی فوج نے تین ہفتوں کی سخت لڑائی کے بعد قصیر پر مکمل کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

بی بی سی کی ایک ٹیم مغربی صحافیوں کی وہ پہلی ٹیم ہے جس نے جنگ کے بعد قصیر کا دورہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ شہر میں کوئی عمارت ایسی نہیں ہے جسے نقصان نہ پہنچا ہو۔

اقوامِ متحدہ کے تخمینے کے مطابق 2011 میں صدر بشارالاسد کے خلاف شورش بھڑک اٹھنے کے بعد سے اب تک شام میں 80 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں اور 15 لاکھ سے زائد ملک سے فرار ہو چکے ہیں۔

تنازع ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششیں جاری ہیں، لیکن امریکہ اور روس امن مذاکرات کی تاریخ طے کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے ایلچی لخدر براہیمی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی کانفرنس اب شاید جون کی بجائے جولائی میں ہو۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ اور روس کے درمیان عدم سمجھوتا ’خجالت آمیز‘ ہے۔

قصیر لبنانی سرحد سے دس کلومیٹر دور ہے اور اس کے قریب سے باغیوں اور حکومت کے اہم راستے گزرتے ہیں۔

بی بی سی کی لیس ڈیوسٹ کہتی ہیں کہ اس شہر میں 30 ہزار افراد رہتے تھے لیکن اب وہاں سے لوگ بڑی حد تک چلے گئے ہیں۔ لیس ڈیوسٹ کو شامی حکومت قصیر لے گئی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ شامی فوجی اور حزب اللہ کے جنگجو ٹرکوں اور بکتر بند گاڑیوں میں ہر طرف نظر آتے ہیں جو اپنی فتح کی خوشی میں ہوائی فائرنگ کرتے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا: ’ہمیں بہت تشویش ہے، اور ہم قصیر پر اسد کی حکومت کے حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا، ’یہ بات واضح ہے کہ شامی حکومت قصیر جیسی جگہوں پر مخالفین کے قبضے کا بیرونی مدد کے بغیر مقابلہ نہیں کر سکتی اور وہ حزب اللہ اور ایران پر انحصار کرتی ہے۔‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ ’حزب اللہ اور ایران فوری طور پر شام سے اپنے جنگجو واپس بلا لیں،‘ اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ انسانی ہمدردی کے کارکنوں کو علاقے میں حفاظت سے آنے جانے دیں۔

بین الاقوامی ریڈ کراس نے کہا ہے کہ اسے خدشہ ہے کہ قصیر میں خوراک، پانی اور ادویات کی قلت ہے۔

اسی بارے میں