جنوبی افریقہ نیلسن مینڈیلا کے لیے دعاگو

Image caption نیلسن منڈیلا کی صحت حالیہ برسوں میں خاصی خراب رہی ہے

جنوبی افریقہ کے کئی گرجا گھروں میں سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی صحت یابی کے لیے دعائیہ تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔

نیلسن مینڈیلا گذشتہ دو روز سے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

صدراتی ترجمان نے اس سلسلے میں اتوار کے روز کوئی تازہ ترین اطلاعات نہیں دیں تاہم مزید تفصیلات متوقع ہیں۔

اس سے پہلے جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کے ترجمان نے کہا تھا کہ سابق صدر نیلسن مینڈیلا کی حالت ’سنگین لیکن مستحکم‘ ہے۔

مینڈیلاکی عمر94 برس ہے اور وہ خاصے عرصے سے علیل ہیں۔ ہفتے کی رات کو ان کی حالت بگڑ گئی اور انھیں پریٹوریا کے ہسپتال میں داخل کروا دیا گیا۔

گذشتہ دو برسوں میں مینڈیلا پانچ بار ہسپتال جا چکے ہیں۔ اپریل میں انھیں نمونیا کی وجہ سے دس دن ہسپتال میں رہنا پڑا تھا۔

بی بی سی افریقہ کے ترجمان اینڈرو ہارڈنگ نے بتایا کہ جنوبی افریقہ کے اخبار سنڈے ٹائمز کی شہ سرخی تھی کہ ’اب انہیں خیرباد کہنے کا وقت آ گیا ہے‘۔ ترجمان کے مطابق اخبار نے مینڈیلا کے قریبی دوست اینڈرو ملانجی کے حوالے سے بتایا کہ وہ سابق صدر کے خاندان سے استدعا کر رہے ہیں کہ وہ روحانی طور پر مینڈیلا کو خیر باد کہہ دیں اور اپنا ایمان خدا کے ہاتھوں میں چھوڑ دیں۔

پریٹویا میں بی بی سی کی کیرن ایلن کا کہنا ہے کہ جنوبی افریقہ میں ایک عجیب سا اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے اور ساتھ ہی ایک خاموش امید بھی ہے کہ سابق صدر ایک بار پھر صحت یاب ہو جائیں گے۔

نیلسن مینڈیلا نسلی امتیاز کے خلاف طویل جدوجہد کے بعد جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر منتخب ہوئے، اور انھیں بابائے جمہوری جنوبی افریقہ کہا جاتا ہے۔

ہفتے کے روز ان کے پھیپھڑوں کا انفیکشن لوٹ آیا جس کی وجہ سے وہ پہلے کئی دفعہ بیمار ہو چکے ہیں۔

مینڈیلا کو مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے جوہانسبرگ میں ان کے گھر سے ہسپتال لے جایا گیا۔ جنوبی افریقی صدر کے ترجمان میک مہاراج نے بی بی سی کو بتایا کہ انھیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

میک مہاراج نے کہا کہ مینڈیلا کے خاندان کا کم از کم ایک فرد بھی ان کے ساتھ ہسپتال میں ہے:

’قدرتی طور پر ان کے رشتے دار ان کے ساتھ ہیں اور یہ کسی بھی مریض کے لیے اچھا ہوتا ہے اگر اس کے ساتھ خاندان کا کوئی فرد موجود ہو۔‘

مہاراج نے ایک بیان میں مزید کہا: ’صدر زوما حکومت اور قوم کی طرف سے مینڈیلا کی جلد اور مکمل بحالیِ صحت کی امید رکھتے ہیں اور میڈیا سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ مادیبا اور ان کے خاندان کی خلوت کا احترام کریں۔‘

نیلسن مینڈیلا کو جنوبی افریقہ میں احترام سے مادیبا کہا جاتا ہے۔

سکائی نیوز نے مہاراج کے حوالے سے بتایا ہے کہ مینڈیلا ہوش میں ہیں اور سانس لے رہے ہیں۔

پریٹوریا کی سڑکوں لوگوں نے اپنے سابق صدر کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا۔

مینڈیلا نے دوران 20 سال سے زیادہ عرصہ قید میں گزارا اور انھیں فروری 1990 میں رہائی ملی تھی۔

انہیں اپنے ملک پر نسل پرستی کی بنیاد پر قابض سفید فام حکمرانوں کے خلاف پر امن مہم چلانے پر 1993 میں امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا۔

نیلسن مینڈیلا 1994 سے 1999 کے دوران جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر رہے ہیں۔ انہوں نے 2004 کے بعد سے عوامی مصروفیات کو الوداع کہہ دیا تھا۔

اسی بارے میں