’کوریائی اعلیٰ سطح اجلاس بدھ کو ہو گا‘

Image caption جنوبی کوریا کا وفد

جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دونوں کوریائی ممالک کے حکام نے سنہ 2007 کے بعد پہلے اعلیٰ سطح کے اجلاس پر اتفاق کیا ہے۔

شمالی اور جنوبی کوریا نے اس بات پر اتفاق سرحدی علاقے پنمنجوم میں مذاکرات میں کیا۔

خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ اعلیٰ سطح کا اجلاس بدھ کو جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں ہو گا۔

اتوار کو مذاکرات پنمنجوم کے مقام پر ہو رہی ہیں جو دونوں ملکوں کے بیچ میں غیرفوجی علاقے میں واقع ہے۔

یہ ملاقات دونوں ملکوں کے درمیان مہینوں سے جاری سخت کشیدگی کے بعد ہو رہی ہے۔ یہ کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچ گئی تھی جب اپریل میں کائےسونگ کے مشترکہ تجارتی خطے میں تمام سرگرمیاں بند کر دی گئی تھیں۔

یہ خطہ شمال اور جنوب کے درمیان تعاون کی علامت ہے، اور یہ شمالی کوریا کی سرحد کے اندر آٹھ برس سے زیادہ عرصے سے چلتا رہا تھا۔

دونوں ممالک میں کشیدگی میں کمی کے بعد جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے حکام کو سیول میں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے بلایا تھا، تاہم شمالی کوریا نے کہا تھا کہ وہ پہلے نچلے درجے کے مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔

سیول میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار کیون کم کہتے ہیں کہ یہ واضح نہیں ہے کہ یہ ملاقات کتنی طویل ہو گی اور اس میں کن معاملات پر بات چیت کی جائے گی۔

تاہم جنوبی کوریائی وفد نے کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ اس میں اسی ہفتے کے اختتام پر ہونے والی وزارتی سطح کی ملاقات کی تفصیلات اور منصوبوں پر گفتگو کی جائے گی۔

جنوبی کوریا کے تین روزہ وفد کے سربراہ وزارتِ الحاق کے ڈائریکٹر ہیں، جو آٹھ بجے سیول سے پان من جوم روانہ ہو گئے۔

اس سال فروری میں جب شمالی کوریا نے ایٹمی تجربہ کیا تو اس کے جنوبی کوریا کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے تھے۔

شمالی کوریا نے کائے سونگ سے اپنے کارکن واپس بلا لیے۔ بظاہر اسے اقوامِ متحدہ کی جانب سے سخت پابندیوں اور جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ جنگی مشقوں پر غصہ تھا۔

کائےسونگ میں جنوبی کوریا کی 120 سے زائد فیکٹریوں میں 53 ہزار کے قریب شمالی کوریائی کارکن کام کر رہے تھے۔

یہ خطہ شمالی کوریا کے لیے آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔

یہ مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکی صدر براک اوباما اور چینی صدر شی جن پنگ امریکی ریاست کیلی فورنیا میں ملاقات کر رہے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا ہے کہ شمالی کوریا اپنے ایٹمی اسلحے سے دست بردار ہو جائے اور دونوں ملکوں مں سے کوئی بھی شمالی کوریا کو ایٹمی طاقت تسلیم نہیں کرے گا۔

اسی بارے میں