’چینی صدر سے مذاکرات تعمیری اور مثبت رہے‘

Image caption مارچ میں چین کے صدر شی جن پینگ کا اپنا عہدہ سنھبالنے کے بعد امریکی صدر سے یہ پہلی ملاقات ہے

امریکی صدر براک اوباما اور چینی صدر شی جن پینگ کے درمیان دو روزہ مذاکرات ختم ہو گئے ہیں اور امریکی حکام نے انہیں ’منفرد، مثبت اور تعمیری‘ قرار دیا ہے۔

امریکی صدر کے قومی سلامتی سے متعلق مشیر ٹام ڈونلن کا کہنا تھا کہ امریکی صدر نے اپنے چینی ہم منصب کو متنبہ کیا کہ سائیبر جرائم چین اور امریکہ کے تعلقات میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار ختم کرنا ہوں گے۔

مذاکرات کے اختتام پر ٹام ڈونلن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ صدر اوباما نے چینی صدر کو امریکہ کو درپیش اُن تمام مسائل سے آگاہ کیا جو سائیبر حملوں اور جملہ حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے سامنے آ رہے ہیں۔

مذاکرات کے اختتام پر وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے پہلی بار ماحولیات کو نقصان پہنچانے والے ’ہائیڈروفلورو کاربنز‘ کو کم کرنے کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر مارک مارڈل کا کہنا ہے کہ بظاہر امریکی حکام ان مذاکرات سے انتہائی خوش ہیں اور ٹام ڈونلن بار بار انہیں منفرد پکار رہے ہیں۔

امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر پام سپرنگ میں ہونے والے مذاکرات میں معیشت اور ماحولیات پر بھی بات چیت کی گئی۔

اس سے پہلے سنیچر کو جب مذاکرات کے بعد جب صدر اوباما سے بات چیت کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ بات چیت ’نہایت عمدہ‘ رہی۔

دوسری جانب چین کے صدر کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ دیگر موضوعات کے علاوہ موحولیاتی تبدیلی اور سائیبر حملے بھی زیربحث آئے۔

اس سے قبل جمعہ کو اجلاس کے آغاز کے موقع پر صدر براک اوباما اور صدر شی جن پنگ نے باہمی اختلافات پر قابو پانے اور دونوں ممالک کے درمیان نئے تعلقات کے آغاز کا اعادہ کیا تھا۔

اس سے پہلے صدر شی جن پنگ کے خارجہ پالیسی کے سینیئر مشیر یانگ یئچی نے صحافیوں کو بتایا کہ سائیبر سکیورٹی کے معاملے پر چین امریکہ کے ساتھ کشیدگی کی بجائے تعاون چاہتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’سائیبر سکیورٹی باہمی شکوک اور کشیدگی کی بنیادی وجہ بننے کی بجائے ہمارے تعاون کا ایک روشن جُز ہونا چاہیے۔‘

مارچ میں چین کے صدر شی جن پینگ کا اپنا عہدہ سنھبالنے کے بعد امریکی صدر سے یہ پہلی ملاقات ہے۔

توقع کی جا رہی تھی کہ دنیا کے دو بڑی معاشی طاقتوں کے سربراہان کی ملاقات ستمبر میں روس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں ہو گی لیکن توقعات کے برعکس یہ ملاقات پہلے ہوئی۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کینسجر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’وہ دونوں رہنماؤں کی جانب سے اپنا اپنا از سرِ نو جائزہ لینے کا اقدام سے متاثر کُن ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا وہ ایسا تعلق بنانے میں کامیاب ہوں گے جس کی بنیاد حرکات کے بجائے نظریات پر ہو‘۔

اس ملاقات سے قبل وائٹ ہاؤس کے حکام نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ حالیہ مہینوں میں مبینہ طور پر چینی حکومت کے احکامات کے بعد امریکہ میں ہیکنگ کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ چین نے حکومت کی جانب سے ہیکرز کو تعاون فراہم کرنے کے الزام کو مسترد کیا ہے۔

اسی بارے میں