ایڈورڈ سنوڈن کون؟

Image caption اطلاعات کے مطابق ایڈروڈ سنوڈن کی تنخوا دو لاکھ ڈالر تھی

برطانوی اخبار گارڈین کے مطابق امریکہ کے خفیہ ادارے سی آئی اے کے سابق ٹیکنیکل اسسٹنٹ ایڈورڈ سنوڈن امریکی حکومت کی جانب سے فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے نگرانی کے پروگرام کی معلومات منظرعام پر لائے ہیں۔

گارڈین کے مطابق انتیس سالہ سنوڈن امریکی ریاست ہوائی میں اپنی محبوبہ کے ساتھ رہائش پذیر تھے اور وہاں سے اب ہانگ کانگ کے ایک ہوٹل میں رہ رہے ہیں۔

سنوڈن سے ایک نامعلوم مقام پر انٹرویو کرنے والے صحافیوں کے مطابق’سنوڈن کمپیوٹر کے ماہر، ملنسار، خاموش طبع اور سمارٹ شخصت کے مالک ہیں‘۔

انہوں نے اخبار کو امریکہ چھوڑنے کی وجوہات کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ’میں ایسے معاشرے میں نہیں رہنا چاہتا جہاں اس قسم کا کام کیا جائے ۔۔۔ میں ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر وہ چیز جو میں کروں یا کہوں اس کو ریکارڈ کیا جائے۔‘

اطلاعات کے مطابق ایڈورڈ سنوڈن کی پرورش جنوبی کیرولائنا کے شہر الزبتھ میں ہوئی اور اس کے بعد میری لینڈ میں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی’این ایس اے‘ کے ہیڈکوارٹرز کے ساتھ فورٹ میئڈ منتقل ہوگئے۔

ایڈروڈ سنوڈن نے میری لینڈ کے کمیونٹی کالج سے کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کی تاکہ ہائی سکول کا ڈپلومہ حاصل کرنے کے لیے ضروری کریڈٹ آوورز حاصل کر سکیں لیکن انہوں نے اپنا کورس مکمل نہیں کیا۔

انہوں نے سال دو ہزار تین میں فوج میں شمولیت اختیار کی اور سپیشل فورسز کے ساتھ تربیت شروع کی لیکن تربیت کے دوران ان کے دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں اور اس سے الگ ہو گئے۔

انہوں نے اپنی پہلی نوکری نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے میری لینڈ یونیورسٹی میں واقع خفیہ مرکز میں گارڈ کے طور پر شروع کی اور اس کے بعد خفیہ ایجنسی سی آئی اے میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سکیورٹی کے شعبے میں کام کیا۔

باقاعدہ تعلیمی قابلیت نہ رکھنے کے باوجود کمپیوٹر میں اپنی صلاحتیوں کی وجہ سے وہ ایجنسی میں تیزی سے ترقی کرتےگئے اور سال دو ہزار سات میں جنیوا میں سفارت کار کے روپ میں سی آئی اے کی پوسٹ پر تعینات کیاگیا ہے۔

ایڈروڈ سنوڈن نے گارڈین سے بات کرتے ہوئے کہا’میں نے جنیوا میں جو زیادہ تر دیکھا، اس نے واقعی میں مجھے اس فریب سے باہر نکال دیا کہ کس طرح میری حکومت کام کرتی ہے اور اس کا دنیا پر کیا اثر ہوتا ہے۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میں ایک ایسی چیز کا حصہ تھا جس کا فائدے کی بجائے بہت زیادہ نقصان ہے‘۔

’میں نے عوام میں جانے کا پہلے فیصلہ کیا تھا لیکن یہ دیکھنے کے لیے انتظار کیا کہ آیا سال دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں صدر اوباما کے آنے کے بعد امریکہ کے نقطہ نظر میں تبدیلی آتی ہے لیکن صدر اوباما نے اپنے پیشرو کی پالیسوں کو جاری رکھا‘۔

ایڈروڈ سنوڈن نے سال دو ہزار نو میں سی آئی اے کو چھوڑ یا اور نیشنل سکیورٹی ایجنسی میں بیرونی کنٹریکٹرز کے لیے ملازمت شروع کی دی جس میں ایک طاقتور مشاورتی کمپنی بوز ایلن بھی شامل ہے۔

اس کمپنی کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق سنوڈن نے ہوائی میں ان کے لیے تین ماہ کے لیے کام کیا۔

’ اخباری اطلاعات کے مطابق اس شخص نے خفیہ معلومات افشا کرنے کا دعویٰ چونکا دینے والا ہے، اگر یہ ٹھیک ہے تو اس اقدام سے ضابط اخلاق اور کمپنی کی بنیادی اقدار کی سنگین خلاف ورزی ہے‘۔

خفیہ ادارے کے اہلکار کے مطابق ایڈروڈ سنوڈن اپنی محبوبہ کے ساتھ یکم مئی کو ہوائی میں اپنا مکان چھوڑ گئے اور انہوں نے پیچھے کچھ بھی نہیں چھوڑا ہے۔

ان کے ایک ہمسایے نے اے بی سی ٹیلی ویژن نیٹ ورک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’جوڑا عام طور پر اپنے مکان کی کھڑکیوں کے پردے اور دروازے بند رکھتا تھا اور قریب میں کسی سے بات نہیں کرتا تھا‘۔

ہانگ کانگ میں گارڈین سے بات کرتے ہوئے ایڈروڈ سنوڈن نے اپنے خوف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان لوگوں سے خوفزدہ ہیں جو ان کو جانتے ہیں

’میرا خاندان نہیں جانتا کہ کیا ہو رہا ہے، مجھے بنیادی خوف یہ ہے کہ وہ میرے خاندان، میرے دوستوں، میرے شراکت دار اور ہر اس کے پیچھے آئیں گے جن کا میرے ساتھ تعلق ہے‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ’اس کے ساتھ میں پوری زندگی گزاروں گا، میں ان سے رابط نہیں کر سکوں گا، انتظامیہ ہر اس کے ساتھ سختی سے پیش آئے گی جو مجھے جانتا ہے اور یہ خیال مجھے رات بھر جگائے رکھتا ہے‘۔

ایڈروڈ سنوڈن نے اعتراف کیا کہ ہو سکتا ہے کہ انہیں جیل جانا پڑے، اگر وہ مجھے پکڑنا چاہتے ہیں تو وقت کے ساتھ وہ ایسا کر سکتے ہیں‘۔

’مجھے کوئی اندازہ نہیں ہے کہ میرا مستقبل کیا ہے، اگرچہ میں اپنا گھر دوبارہ دیکھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے اس کی امید نہیں ہے‘۔

اسی بارے میں