امریکی خفیہ ایجنسی کے لیے ہر کال اہم ؟

Image caption جاسوسی کے ادارے کو یومیہ کڑوروں کالز کو نئے ڈیٹا سینٹر میں محفوظ کرنے کے لیے مہینوں اور برسوں کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

امریکی خفیہ ایجنسی کے ملک کےسب سے بڑے موبائل فون نیٹ ورک ویریژن کے ذریعے لاکھوں صارفین کی معلومات تک رسائی نے جاسُوسی اور شواہد میں کمیونیکشن ڈیٹا کی اہمیت کو مزید اُجاگر کر دیا ہے۔

سنہ 2005 سے امریکی خفیہ ادارے این ایس اے کا یہ طریقہ کار جیسے برطانوی سکیورٹی حکام بھی بڑے پیمانے پر استعمال کرنا چاہتے ہیں، کے طریقہ کار کو سمھجنا اتنا آسان نہیں ہے۔ کیا یہ طریقہ کار اس چیز سے منسلک ہے جیسا کے کہا جا رہا ہے؟ کیمونیکشن کی تفصیلات جیسے کسی بھی فون نمبر پر کسی خاص صارف نے کتنی بار فون کیا

عراق میں خفیہ مشترکہ سپیشل آپریشن کمانڈ کی معاونت کے لیے نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے عراق میں کی جانے والی ہر فون کال ریکاڈ کی۔ لیکن اُن کے پاس اتنی بڑی تعداد میں ریکارڈ کی جانی والی فون کالز کے ترجمے کے لیے مترجم یا ایسے افراد کم تھے جو اِن کالز کی اہمیت کا اندازہ لگا سکیں۔

انھوں نے کچھ ہی مہینوں میں فون کالز کے ڈیٹا بیس کی مدد سے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو تیزی سے ختم کیا۔

امریکی ڈیلٹا فورس کو اپنے نشانوں پر چھاپے مارنے کے لیے ٹیلی فون تلاش کیے جاتے۔ جو کبھی خودکُش جیکٹ میں ملبوس حملہ آور کے ہاتھ سے ملتا۔

یہ اعداد وشمار شاید اس سے پہلے کسی کے لیے باعثِ دلچسپی نہ ہوتے لیکن چند ہی سکینڈ میں این ایس اے کے ماہرین نے یہ دریافت کیا کہ کئی ماہ قبل کی جانی والی ہر کال سے ہلاک ہونے والے بمبار کے دوسروں سے رابطے کا پتہ چلایا جا سکتا ہے اور یہ تبھی ممکن ہو سکتا تھا جب کہ تمام کالز کا ریکارڈ موجود ہو۔

عراق میں سپشل آپریٹرز کے ڈیٹا بیس کو مزید ریفائنڈ کرنے کے لیے سافٹ ویئر بنایاگیا تاکہ دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا پتہ لگایا جا سکے۔ مثال کے طور پر کسی بھی نمبر کا پتہ لگانے کے لیے ایک لیپ ٹاپ کے سائز کا ٹرمینل استعمال کیا جاتا اور پھر مطلوبہ ہدف پر چھاپا مارا جاتا۔

عراق میں سنہ 2006 کے دوران خصوصی آپریٹرز کے زیر استعمال ٹرمینل کی مدد سے القاعدہ سیل کے ایک رکن کو نشانہ بنایاگیا اور نیم تباہ مکان سے ایک کمپیوٹرملا۔ جس میں ڈیٹا بیس کی مدد سے دوسرے افراد کا پتہ لگایا گیا۔ ٹیلی فون کے ذریعے اُن کی ٹھکانے کا پتہ لگانے کے بعد ہیلی کاپٹر کے ذریعے چھاپہ مارا گیا۔

جاسُوسی کے اس منفرد طریقہ کار کو امریکی خفیہ ادارے این ایس اے نے مقامی سطح پر سنہ 2006 میں استعمال کیا۔اس ڈیٹا بیس میں ٹیلی فون پر کی جانے والی گفتگو کا مواد شامل نہیں ہے۔ اس لیے خفیہ ایجنسی کے خیال میں پروگرام کا دائرہ کار امریکی شہریوں تک بڑھانے میں کسی ضمانت کی ضرورت نہیں ہے۔

.یہاں یہ بات کافی واضح ہے کہ جاسُوسی کے ادارے کی یومیہ کڑوروں کالز کے ذریعے ملنے والی معلومات کو نئے ڈیٹا سینٹر میں محفوظ کرنے کے لیے مہینوں اور برسوں کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔

عراق میں کام کرنے والے برطانوی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کا کہنا ہے کہ معلومات اکٹھی کرنے کا طریقہ کار کافی متاثر کُن ہے۔ ’ بلیک، نائٹ اور سپارنٹن‘ کے خفیہ نام والی ٹاسک فورس کا کہنا ہے کہ ملک کے اندر انسدادِ دہشت گردی کے اس طریقہ کار کا استعمال ہونا چاہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے برطانیہ کے ٹیلی کام آپریٹرز کے پاس موجود صارفین کے ’بلوں کی معلومات‘ تک حکومتی رسائی اس عمل کو ممکن بنا سکتی ہے۔

یہ اقدام کیمونیکشن ڈیٹا کے وسیع تر استعمال کو جاسُوسی ’ سنوپرز چارٹر‘ کے آغاز کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں