ایران: اصلاح پسند امیدوار صدارتی انتخابات سے باہر

ایران میں اصلاح پسند صدارتی امیدوار محمد عارف رضا ملک میں جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات کی دوڑ سے باہر ہوگئے ہیں۔

محمد عارف رضا نے اپنی ویب سائٹ پر کہا ہے کہ انہیں اصلاح پسند تحریک کے سربراہ اور سابق صدر محمد خاتمی نے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہونے کو کہا تھا۔

عارف رضا ایک کم شہرتِ یافتہ اصلاح پسند رہنما ہیں جو ماضی میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے کتراتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر محمد خاتمی 2013 کے صدارتی انتخابات میں امیدوار کے طور پر شامل ہوئے تو وہ ان کے حق میں دستبردار جائیں گے۔

انہوں نے منگل کو کہا کہ’ محمد خاتمی کی واضح رائے اور دو دفعہ صدارت کے منصب کے تجربے کی روشنی میں میں انتخابی مہم سے دستبردار ہوتا ہوں۔‘

عارف رضا پر اصلاح پسند صدارتی امیدوار حسن روہانی کے حق میں دستبردار ہونے کے لیے دباؤ تھا اور ان کے فیصلے سے حسن روہانی کو انتخابات جتنے میں مدد ملے گی۔

حس روہانی سابق جوہری مذاکرات کار ہیں اور پیر کو محمد خاتمی کے مشاوراتی شوریٰ نے ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ایران کے صدارتی انتخابات میں باقی چھ امیدوار قدامت پسند ہیں جو رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

دوسری طرف قدامت پسند رہنما غلام علی عدیل پیر کو انتخابات سے دستبردار ہو گئے تھے اور انہوں نے ووٹروں کو قدامت پسند امیدوار کو ووٹ دینے کے لیے کہا تھا تاہم انہوں نے کسی خاص امیدوار کی تائید نہیں کی۔

غلام علی کو آیت اللہ خامنہ کا مکمل طور وفادار کے طور پر دیکھا جاتا تھا جن کے دستبردار ہونے سے انتخابات کے نتائج پر کوئی خاص اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔

محمد خاتمی نے جمعے کو ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے سے انکار کیا جبکہ دوسرے اصلاح پسند رہنما اکبر ہاشمی رفسنجانی کو نااہل قرار دیا گیا تھا۔

صدارتی انتخابات میں شوریٰ نگہبان نے چھ سو امیدواروں میں سے صرف آٹھ کو انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت دی تھی۔

ان آٹھ امیدواروں میں سے پانچ کو قدامت پسند اور آیت اللہ خامنہ ای کا مکمل وفادار سمجھا جاتا تھا جبکہ باقی تین کو محتاط اصلاح پسند مانا جاتا تھا۔

موجودہ صدر احمدی نژاد پر مسلسل تیسری بار انتخابات میں حصہ لینے پر آئینی پابندی ہے جبکہ ان کے حمایت یافتہ امیدوار اسفندیار رحیم مشائی کو نااہل قرار دیا گیا ہے۔

ملک میں صدارتی انتخابات جمعے کو ہونگے۔ اس سے پہلے 2009 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں محمود احمدی نژاد کے انتخاب کو اصلاح پسندوں نے متنازع بنایا تھا۔

ان انتخابات کے بعد دھاندلیوں کے الزامات لگائے گئے اور پڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جس میں تیس افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد گرفتار کیے گئے تھے اور اصلاح پسند امیدوار حسن موسوی اور محمد کرابی کو گھروں میں نظر بند کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں