یونان: بچت کے لیے سرکاری چینلز کی بندش

Image caption یونان کا سرکاری ٹی وی 70 برس سے نشریات پیش کر رہا تھا

یونان میں حکومت نے ملک کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو چینلز کی نشریات بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔

حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سرکاری چینل ای آر ٹی کی ٹی وی اور ریڈیو نشریات بدھ کی صبح سے بند کر دی جائیں گی۔

ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’تمام ملازمین جو کہ کم از کم تعداد میں 2500 ہیں اس وقت تک معطل تصور ہوں گے جب تک کہ کمپنی دوبارہ کام شروع نہیں کر دیتی۔

حکام کے مطابق یہ قدم یونانی حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت اٹھایا گیا ہے جن کا مقصد ملک کو کساد بازاری سے نکالنا ہے۔

یونان کا سرکاری ٹی وی 70 برس سے نشریات پیش کر رہا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکومتی ترجمان کا کہنا تھا کہ ’ای آر ٹی عدم شفافیت اور ناقابلِ یقین شاہانہ اخراجات کی غیرمعمولی مثال ہے جس کا خاتمہ اب ہوا ہے۔‘

ای آر ٹی کے ملٹی میڈیا ڈپارٹمنٹ کے ایک انجینیئر یانس کا کہنا ہے کہ ’حکومت نے نصف شب کو چینلوں کی بندش کا اعلان کیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’حکومتی اعلان کے مطابق آج رات سے میں بیروزگار ہوں۔ یہ میرے لیے بہت بڑا دھچکا ہے۔ کچھ گھنٹوں میں میری نوکری جانے والی ہے۔‘

یونان میں ای آر ٹی کے سرکاری ٹی وی اور ریڈیو چینل کے لیے فنڈنگ بجلی کے ہر بل میں شامل کی گئی چار اعشاریہ تین یورو کی رقم سے آتی ہے۔

اس نشریاتی ادارے کے تحت تین مقامی ٹی وی چینلوں اور چار قومی ریڈیو سٹیشنوں کے علاوہ علاقائی ریڈیو اور ایک عالمی سروس وائس آف گریس کے نام سے چلائی جاتی ہے۔

یونان کی پارلیمان نے اپریل میں ایک بل کی منظوری دی تھی جس کے تحت آئندہ برس کے آخر تک 15000 سرکاری ملازمین کی چھانٹی ہوگی۔

یہ قانون ملک کو عالمی قرض خواہوں کی جانب سے آٹھ ارب اسّی کروڑ یورو کے قرضوں کی فراہمی کی شرط بھی تھا۔

.

اسی بارے میں