نگرانی کا راز افشا کرنے والے سنوڈن ہانگ کانگ میں ’لاپتہ‘

Image caption ایڈورڈ بیس مئی کو ہانگ کانگ پہنچے تھے اور ان کے پاس 90 دن کا ویزا ہے۔

امریکی حکومت کے فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے نگرانی کے پروگرام کی معلومات منظر عام پر لانے والے سی آئی اے کے سابق ملازم ہانگ کانگ میں اپنے ہوٹل سے غائب ہوگئے ہیں۔

انتیس سالہ ایڈورڈ سنوڈن نے پیر کو وہ ہوٹل چھوڑ دیا جہاں وہ قیام پذیر تھے اور اس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں تاہم خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ہانگ کانگ میں ہی موجود ہیں۔

.اس سے قبلی سی آئی اے کے سابق ٹیکنیکل اسسٹنٹ سنوڈن نے کہا تھا کہ انہوں نے پرزم نامی اس پروگرام کے بارے میں معلومات عام کرنے کا فیصلہ ساری دنیا لوگوں کو آزادیوں کو بچانے کے لیے کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد عوام کو استبداد سے بچانا ان کی ذمہ داری تھی۔

ایڈورڈ سنوڈن نے امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کے بارے میں برطانوی اخبار گارڈین کو بتایا تھا اور اخبار نے انہی کے کہنے پر ان کا نام ظاہر کیا۔

ایڈورڈ نے برطانوی اخبار کو بتایا کہ ’میں ایسے معاشرے میں نہیں رہنا چاہتا جہاں اس قسم کا کام کیا جائے ۔۔۔ میں ایسی دنیا میں نہیں رہنا چاہتا جہاں ہر وہ چیز جو میں کروں یا کہوں اس کو ریکارڈ کیا جائے۔‘

واضح رہے کہ برطانوی اخبار گارڈین نے خبر شائع کی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، تصاویر اور ای میلز تک نکال لی جاتی ہیں تاکہ مخصوص لوگوں پر نظر رکھی جا سکے۔

بعدازاں امریکہ کی نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے تسلیم کیا تھا کہ حکومت انٹرنیٹ کمپنیوں سے صارفین کی بات چیت کا ریکارڈ حاصل کرتی ہے تاہم انہوں نے کہا تھا کہ معلومات حاصل کرنے کی پالیسی کا ہدف صرف’غیر امریکی افراد‘ ہیں۔

Image caption ایڈورڈ سنوڈن پیر کو ہوٹل مِیرا سے چیک آؤٹ کر گئے

گارڈین اخبار کے مطابق جب ایڈورڈ سے پوچھا گیا کہ وہ اپنے بارے میں کیسا محسوس کرتے ہیں ان کا جواب تھا ’اچھا نہیں۔‘

ایڈورڈ کا کہنا تھا کہ وہ ہانگ کانگ اس لیے گئے کہ وہاں پر آزادی اظہار کا حق ہے۔ ایڈورڈ بیس مئی کو ہانگ کانگ پہنچے تھے اور ان کے پاس 90 دن کا ویزا ہے۔

ہانگ کانگ کے مقامی چینل آر ٹی ایچ کے کا کہنا ہے کہ ایڈورڈ سنوڈن پیر کو ہوٹل مِیرا سے چیک آؤٹ کر گئے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ہوٹل کے عملے کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ پیر کی دوپہر چلے گئے تھے۔

خیال رہے کہ ہانگ کانگ چین کا علاقہ ہے تاہم اس کا امریکہ کے ساتھ مجرموں کے تبادلے کا معاہدہ موجود ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سنوڈن کو امریکہ لے جانے کی کوششوں کی کامیابی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں اور ممکنہ طور پر چین ان کوششوں کو ناکام بھی بنا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ صدر براک اوباما نے اس پروگرام کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ اُن کی انتظامیہ نے سکیورٹی اور پرائیویسی کے درمیان ’صحیح توازن برقرار رکھا ہے۔‘

صدر اوباما نے کہا تھا کہ این ایس اے کے پروگرام کی منظوری کانگریس نے دی ہے اور کانگریس کی انٹیلیجنس کمیٹیاں اور خفیہ جاسوسی کی عدالتیں اس پروگرام کی مسلسل نگرانی کرتی ہیں۔

خیال رہے کہ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے خبر دی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں سراغ رسانی کی غرض سے انٹرنیٹ کی نو بڑی کمپنیوں کے سرورز سے صارفین کے بارے میں براہ راست معلومات حاصل کر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں فیس بک، یو ٹیوب، سکائپ، ایپل، پال ٹاک، گوگل، مائکروسافٹ اور یاہو بھی شامل ہیں۔

ان خبروں کے بعد ورلڈ وائیڈ ویب کے خالق سر ٹم برنرز لی نے پرزم پروگرام پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی حکومت کی جانب سے یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے انٹرنیٹ کے صارفین سے کہا کہ وہ انفرادی طور پر بھی اس معاملے پر آواز اٹھائیں اور احتجاج کریں۔

اسی بارے میں