استنبول: تقسیم سکوائر خالی، کشیدگی برقرار

Image caption پولیس کا کہنا تھا کہ وہ مظاہرین کے گڑھ غازی پارک میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی جہاں ہزاروں افراد خیمہ زن ہیں۔

ترکی کے شہر استنبول میں حکومت مخالف مظاہرین اور پولیس کے درمیان رات بھر جاری رہنے والی پُرتشدد جھڑپوں کے بعد تقسیم سکوائر خالی کرا لیا ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے۔

پولیس نے استبول کے تقسیم چوک پر جمع ہونے والے ہزاروں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے بدھ کی صبح آنسو گیس استعمال کیا ہے۔

ترک وزیرِاعظم رجب طیب اردوگان کی جانب سے ملک میں جاری مظاہروں کو مزید برداشت نہ کیے جانے کے اعلان کے بعد استنبول میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کا سلسلہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب جاری رہا۔

بدھ کو صبح سویرے تقسیم چوک پر بلڈوزر لائے گئے تاکہ ملبے، روکاوٹوں اور مظاہرین کی عارضی رکاوٹوں کو ہٹایا جا سکے۔

اس سے قبل پولیس کا کہنا تھا کہ وہ فی الحال مظاہرین کے گڑھ غازی پارک میں داخل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتی جہاں ہزاروں افراد خیمہ زن ہیں۔

منگل کی صبح سے پولیس اور مظاہرین کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپیں رات گئے تک جاری رہیں اور 70 سے زیادہ افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ جھڑپوں کے دوران مظاہرین نے پولیس پر آتشبازی، پیٹرول بم اور پتھر پھینکے جبکہ پولیس نے جواب میں آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں برسائیں۔

استنبول کے میئر حسین مٹلو نے منگل کی شب ٹی وی پر ایک مختصر اعلان میں کہا ہے کہ پولیس اپنا آپریشن اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک تقسیم سکوائر کا علاقہ خالی نہیں کروا لیا جاتا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے تحفظ کے لیے اس علاقے سے دور رہیں۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’کارروائی احتیاط کے ساتھ، لوگوں اور سوشل میڈیا کی نگاہوں اور ٹی وی کیمروں کے سامنے قانون کے عین مطابق ہوگی۔‘

ترکی میں حکومت مخالف شورش اس وقت شروع ہوئی تھی جب استنبول کے غازی پارک میں سلطنتِ عثمانیہ دور کی فوجی بیرکس کی دوبارہ تعمیر کا منصوبہ سامنے آنے پر مظاہرے شروع ہوئے تھے۔

Image caption استنبول کی بلوہ پولیس تقسیم چوک میں داخل ہو گئی

اس کے بعد ان مظاہروں کا دائرہ پھیل گیا اور مظاہرین اردوگان کی حکومت پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ مطلق العنان بنتی جا رہی ہے، اور ترکی جیسے سیکولر ملک میں اسلامی اقدار نافذ کرنا چاہتی ہے۔

وزیرِاعظم اردوگان نے منگل کو مظاہرین کے خلاف پولیس کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کے بارے احتجاجی تحریک کو ایسے لوگوں نے قابو کر لیا تھا جو ترکی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

ٹی وی پر نشر کی گئی پارلیمان کے سامنے تقریر کرتے ہوئے رجب طیب اردوگان نے کہا کہ ’وہ کہتے ہیں کہ یہ وزیرِاعظم انتہائی سخت ہے۔ تو ہونا کیا تھا؟ کیا ہم ان لوگوں کے سامنے جھک جاتے؟‘

’اگر وہ اس کو سختی کہیں گے تو معاف کیجیے گا طیب اردوگان تبدیل نہیں ہوگا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’جو لوگ ان مظاہروں میں خلوصِ نیت سے شریک ہیں، میں اُن سے کہتا ہوں کہ وہ یہ جگہیں چھوڑ دیں اور میں آپ کو اپنا پیار بھیجتا ہوں۔‘

’جو لوگ ان مظاہروں کو جاری رکھنا چاہتے ہیں انھیں میں کہوں گا کہ اب بات ختم ہوگئی ہے اور ہمارے پاس اُن کے لیے اب کوئی برداشت نہیں ہے۔‘

پولیس کے چوک کے داخل ہونے سے پہلے وزیرِاعظم رجب طیب اردوگان نے بدھ کے روز مظاہرے کے منتظمین سے ملنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ ان کے نائب بلند ارنج نے تصدیق کی تھی کہ وزیرِاعظم مظاہرین سے ملنے پر راضی ہو گئے ہیں۔

ارنج نے کہا: ’وزیرِاعظم نے مظاہرے ترتیب دینے والی بعض تنظیموں کے نمائندوں کو ملاقات کا وقت دیا ہے۔ وہ ان میں سے کچھ کی درخواست پر بدھ کو ان سے ملیں گے، جب کہ دوسروں سے بعد میں ملاقات کی جائے گی۔‘

تقسیم چوک میں داخل ہونے والے پولیس اہل کاروں نے ہیلمٹ پہن رکھے تھے اور ان کے پاس بکتربند گاڑیاں تھیں۔ وہ منگل کی صبح مظاہرین کی جانب سے کھڑی کی ہوئی رکاوٹوں کو ہٹا کر چوک میں داخل ہو گئے۔

انھوں نے چوک کے قریب ایک عمارت سے مظاہرین کے بینر بھی اتار دیے۔

ادھر استنبول کے گورنر حسین اونی متلو نے کہا ہے کہ پولیس غازی پارک میں مظاہرہ توڑنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

انھوں نے ٹوئٹر پر لکھا: ’ہمارا مقصد اتاترک کے مجسمے اور اتاترک ثقافتی مرکز سے تصاویر اور نشانات اتارنا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارا کوئی اور مقصد نہیں ہے۔ غازی پارک اور تقسیم کو نہیں چھیڑا جائے گا۔‘

پولیس نے بھی اسی قسم کا ایک پیغام لاؤڈسپیکر پر نشر کیا، لیکن چوک میں موجود مظاہرین کا کہنا ہے کہ انھیں اس پر یقین نہیں ہے۔

بی بی سی کے مارک لوون بھی چوک میں موجود ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ طاقت کا دانستہ استعمال بدھ کو ہونے والے مذاکرات کو کھٹائی میں ڈال سکتا ہے۔

ترکی میں یہ احتجاج شروع ہونے کے بعد سے اب تک پانچ ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جب کہ تین مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں