دنیا افغان عوام سے منہ نہ پھیرے: نیٹو جنرل

جنرل ڈنفورڈ
Image caption یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب طالبان کی جانب سے کئی نئے حملے کیےگئے ہیں۔

افغانستان میں بیرونی افواج کے کمانڈر نے عالمی برادری کو ملک سے منھ پھیرنے کی صورت حال سے متعلق خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پچھلے دس سالوں میں ہونے والی پیشرفت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

جنرل جوزف ڈنفورڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک جو جمہوری پیش رفت ہوئی ہے وہ دو ہزار چودہ میں افغانستان میں عالمی فوجیوں کے آپریشن اختتام سے خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

ملک کے شمالی صوبے قندوز میں بی بی سی سے بات چيت میں انہوں نے کہا ’اس وقت تک ہم نے اہم پیش رفت کی ہے لیکن ہم ابھی اس مقام پر نہیں ہیں جہاں سے اس پیش رفت کو مکمل طور پر برقرار رکھا جا سکے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ یہی حقیقت ہماری آئندہ آٹھارہ ماہ میں ہونے والی کوششوں کی توجہ کا مرکز رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں اس وقت شروعات کرنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر افغان سکیورٹی فورسز کے ساتھ دو ہزار اٹھارہ کے بارے میں بات کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ دو ہزار چودہ کے متعلق۔‘

اگلے ہفتے ہی ملک کا آخری ضلع افغان فورسز کے مکمل طور پر حوالے کیا جائےگا لیکن کچھ بیرونی فوجی افغان فورسز کی مدد کے لیے ساتھ رہیں گے۔

جنرل ڈنفورڈ کا کہنا تھا کہ افغان فورسز اس تنازع میں لڑنے کی اچھی صلاحیت کے حامل ہوتے جا رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے اس بات پر زور بھی دیا کہ ملک کے مستقبل کے لیے طالبان سے بات چیت بہت اہم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے طالبان سے دیر یا بدیر مذاکرات ضروری ہیں۔

جنرل ڈنفورڈ کا کہنا تھا کہ صورت حال یہ ہے کہ بغیر بیرونی ممالک کے رہنماؤں کی حمایت کے افغستان میں عوام کے بنیادی حقوق کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

انہوں نے کہا کہ دشمن صرف طالبان ہی نہیں بلکہ بہت سے جرائم پیشہ گروپ بھی اس لڑائی میں ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں۔

نیٹو افواج کے جنرل کی طرف سے یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں آئی ہے جب طالبان کی جانب سے کئی نئے حملے کیےگئے ہیں۔

منگل کے روز کابل میں سپریم کورٹ کے سامنے ہونے والے ایک خود کش حملے میں سولہ افراد ہلاک اور چالیس سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

پیر کے روز سات جنگجوؤں نے شہر کے ایئر پورٹ کا محاصرہ کر لیا تھا جنہیں بعد میں فورسز نے مار گرایا۔

چونکہ بیرونی افواج دو ہزار چودہ میں افغنستان میں اپنا آپریشن ختم کر دیں گی اس لیے جنرل ڈنفورڈ نیٹو افواج کے آخری جنرل ہوں گے۔

اسی بارے میں