نیند میں کئی ملین یوروز ٹرانسفر، برطرف ملازمہ بحال

Image caption بینک میں ایک دوسرے ساتھی نے بعد میں اس غلطی کی نشاندہی کر کے اسے ٹھیک کر دیا تھا

جرمنی میں نیند میں کئی ملین یوروز ٹرانسفر کرنے والے کلرک کی غلطی کی نشاندہی نہ کرنے کے الزام میں برطرف سپروائزر کو عدالت نے بحال کرنے کا حکم دیا ہے۔

لیبر کورٹ نے ایک بینک کے سپروائزر کو ان کے کلرک کی غلطی کی وجہ سے نوکری سے برطرف کرنے کو غیر منصفافہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھیں وارننگ دی جانی چاہیے تھی۔

واضح رہے کہ جرمن بینک نے ایک سپروائزر کو اس کے ماتحت کلرک کی رقم منتقل کرنے کے دوران نیند میں غلطی کی وجہ سے نوکری سے برطرف کر دیا تھا۔

یہ واقعہ اپریل میں اس وقت پیش آیا جب ایک تھکا ہوا کلرک 64.60 یوروز ٹرانسفر کر رہا تھا کہ اس دوران ان کی آنکھ لگ گئی جبکہ ان کی اْنگلی کمپیوٹر کے کی بورڈ پر 2 پر تھی جس کی وجہ سے 222,222,222,22 یوروز ٹرانسفر ہوئے۔

بینک میں ایک دوسرے ساتھی نے بعد میں اس غلطی کی نشاندہی کر کے اسے ٹھیک کر دیا تھا۔

بینک نے سپروائزر پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے کلرک کے کام تصدیق نہیں کرتی۔

کلرک کی سپروائزر کو اس لیے نوکری سے نکال دیا گیا کہ وہ مبینہ طور پراس غلطی کی نشاندہی کرنے میں ناکام رہیں۔

عدالت کو بتایا گیا کہ جس دن غلط تعداد میں رقم منتقلی کرنے کا واقعہ پیش آیا تھا اس دن سپروائزر نے غلطی کی نشاندہی کے لیے 812 دستاویزات چیک کیے جس میں زیادہ تر دستاویزات کی چانچ میں ایک سیکنڈ سے تھوڑا ہی زیادہ وقت لگا۔

اڑتالیس سالہ سپروائزر نے جو 1986 سے اس بینک کی ملازمہ ہیں عدالت کو بتایا کہ انھیں یہ غلطی نظر نہیں آئی اور انھوں نے اس ٹرانزیکشن یا رقم کے منتقلی کی منظوری دے دی۔

اس مقدمے میں ہیسی ریاست میں ججوں نے کہا کہ سپروائزر کو نوکری سے فارغ کرنے کے بجائے ان کی سرزنش کرنی چاہیے تھی۔

ججوں نے حکم دیا کہ اس کوتاہی میں سپروائزر کی نیت میں کوئی کھوٹ نہیں تھی اس لیے انھیں صرف وارننگ دے دینی چاہیے تھی۔

عدالت نے بینک کو حکم دیا ہے کہ سپروائزر کو بحال کر دیا جائے کیونکہ ان کے نوکری کے کنٹریکٹ کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔