دنیا کے معمر ترین شخص کا انتقال

Image caption جیرومون کیمورہانیس اپریل اٹھارہ سو ستانوے میں پیدا ہوئے

ایک جاپانی مرد جنہیں دنیا کے معمر ترین شخص ہونے کا اعزاز حاصل تھا، ایک سو سولہ سال کی عمر میں وفات پا گئے ہیں۔

جاپانی حکومت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ بدھ کے روز جیرومون کیمورہ ہسپتال میں طبعی وجوہات کی وجہ سے وفات پاگئے۔

دسمبر میں گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز نے اس بات کی تصدیق کی تھی کہ زندہ افراد میں جیرومون کیمورہ معلومات کے مطابق سب سے زیادہ عمر رسیدہ ہیں۔

جیرومون کیمورہ انیس اپریل اٹھارہ سو ستانوے میں پیدا ہوئے۔

انھوں نے ریٹائرمنٹ تک مقامی ڈاک خانے میں کام کیا اور کہا جاتا ہے کہ نوے سال کی عمر تک وہ اپنے بیٹے کا کاشتکاری میں ہاتھ بٹاٹے رہے۔

وہ دسمبر میں دنیا کے عمر رسیدہ بنے جب گذشتہ عمر رسیدہ ترین شخص وفات پاگئے۔

اس سال انیس اپریل کو جیرومون کیمورہ کی ایک سو سولھویں سالگرہ کے موقعہ پر جاپانی وزیرِاعظم شنزو ایبے نے انھیں ایک ویڈیو پیغام بھیجا تھا۔

دسمبر میں دیے گئے ایک انٹرویو میں اُن کے بھانجے کا کہنا تھا کہ اُن میں زندہ رہنے کے لیے ایک انتہائی مضبوط عزم ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جیرومون کیمورہ کو اس بات کا یقین ہے کہ وہ بہتر اور درست انداز میں رہتے ہیں۔‘

اپنی ایک سو پندریوں سالگرہ پر دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے کہا تھا کہ انھیں یہ معلوم نہیں کہ وہ اتنی لمبی عمر کیسے زندہ رہے۔

بلومبرگ کے صحافی کانوکو ماتسویاما گذشتہ سال اُن سے گھر پر ملے۔ اُس وقت اُن کا کہنا تھا کہ لمبی عمر کا راز کم خوراک کھانا ہے۔

ادھر اُن کا خیال رکھنے والی اُن کے پوتے کی بیوی کا کہنا ہے کہ اُن کی لمبی عمر کا راز مثبت سوچ ہے۔

اطلاعات کے مطابق جاپان کی ہی ایک سو پندرہ سالہ خاتون مساؤ اوکاوا اب دنیا کا عمر رسیدہ ترین شخص ہونے کا اعزاز حاصل کریں گی۔ وہ پہلے ہی معمر ترین خاتون مانی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں