شام: باغیوں کے حملے میں درجنوں شیعہ افراد ہلاک

Image caption یہ حملہ بظاہر گاؤں کے لوگوں کی جانب سے باغی چوکیوں پر حملے کا ردِ عمل تھا

شام میں حکومت مخالف فورسز نے ملک کے مشرقی حصے میں ایک گاؤں پر حملہ کیا ہے جس میں اطلاعات کے مطابق شیعہ مسلک کے درجنوں افراد کو ہلاک کیا گیا ہے۔

شام کے حوالے سے انسانی حقوق کی برطانوی تنظیم کا کہنا ہے کہ منگل کے روز ہاٹلا گاؤں میں کم از کم ساٹھ افراد کو ہلاک کیا گیا جن میں بیشتر حکومت کے حامی جنگجو تھے۔

یہ حملہ بظاہر گاؤں کے لوگوں کی جانب سے باغی چوکیوں پر حملے کا ردِ عمل تھا۔

اطلاعات کے مطابق حملے میں بچ جاننے والے شیعہ افراد نے علاقہ چھوڑ دیا ہے۔

دوسری جانب حال ہی میں آنے والی اطلاعات کے مطابق شام میں حکومتی فورسز نے ملک کے شمالی شہر حلب اور اس کے اطراف میں بھر پور حملے کی تیاری کر رہی ہیں۔ شام میں سکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ ’چند گھنٹوں یا دنوں میں شروع ہو سکتا ہے‘۔

شام میں دو سال سے جاری شورش میں فرقی واریت کا عنصر بڑھتا جا رہا ہے۔ تنازع میں حکومت مخالفین باغیوں کی زیادہ تر تعداد سنی مسلک سے ہے اور صدر بشرالاسد کی حکومتی افواج میں زیادہ تر افراد کا تعلق شیعہ مسلک کے علویٰ گروہ سے ہے۔

گذشتہ ہفتے لبنان سے شیعہ گروہ حزب اللہ کے جنگجوؤں کو حکومتی فوج کی مدد کے لیے بلایا گیا تھا تاکہ عسکری اہمیت کا حامل مغربی قصبہ قصیر پر قبضہ کیا جا سکے۔

انسانی حقوق کی مبصر برطانوی تنظیم کی اطلاعات کے مطابق حکومتی جنگجوؤں نے پیر کے روز ہاٹلا کے قریب میں باغیوں ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا جن میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اُس سے اگلے روز باغیوں نے ہاٹلا گاؤں پر حملے کیا اور ساٹھ شیعہ رہائشیوں کو ہلاک کر دیا۔ اس حملے میں دس باغی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

شام کے حوالے سے انسانی حقوق کی مبصر برطانوی تنظیم ’سریاً آوبزرویٹری فار ہیومن رائٹس‘ شام میں کام کرنے والی نامور ترین تنظیموں میں سے ایک ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اِن کی اطلاعات غیر جانبدار ہیں تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کی جا سکتی ہے۔

برطانوی وزیر خارجہ اپنے امریکی ہم منصب جان کیری سے ملاقات کے لیے بدھ کو واشنگٹن جائیں گے جہاں اس تنازع کا مغربی ردِعمل زیرِ بحث آئے گا اور اس بات پر غور بھی کیا جائے گا کہ باغیوں قوتوں کو ہتھیار فراہم کیے جائیں یا نہیں۔

صدر بشار الاسد کے خلاف مارچ دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والی تحریک میں اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق اسّی ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ تقریباً سولہ لاکھ نے ہمسایہ ممالک میں پناہ لے رکھی ہے۔

اسی بارے میں