’شام میں ترانوے ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہیں‘

Image caption ’ہلاکتوں کی اتنی زیادہ تعداد اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ تنازع کس قدر وحشیانہ ہو چکا ہے۔‘ ناوی پلے

اقوام متحدہ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق شام میں کشیدگی کے آغاز سے اب تک کم از کم ترانوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ جولائی سے اب تک شام میں ہر ماہ اوسطً کم از کم پانچ ہزار افراد ہلاک ہو رہے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ایک محتاط اندازہ ہے کیونکہ بہت سی ہلاکتوں کی اطلاع نہیں دی جاتی۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں اسّی فیصد مرد ہیں اور دس سال سے کم عمر کے سترہ سو بچے بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کی سربراہ ناوی پلے نے کہا کہ چند موقعوں پر بچوں پر تشدد اور اُن کے مارے جانے کی اطلاعات ملی ہیں، پورے پورے گھرانوں کو مار دیا گیا جن میں شیرخوار بچے بھی شامل ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہلاکتوں کی اتنی زیادہ شرح اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ تنازع کس قدر وحشیانہ ہو چکا ہے۔‘

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کی ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام میں گزشتہ دو برسوں سے جاری لڑائی میں اب تک ہزاروں بچے ہلاک ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی’اطفال اور مسلح لڑائی‘ کے عنوان سے جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق مارچ 2011 سے شام میں حکومتی فورسز اور باغیوں کی لڑائی میں بچے بھی نشانہ بنے ہیں۔

رپورٹ میں بچوں کی ہلاکت کی تعداد کو ’ناقابلِ برداشت‘ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حکومتی افواج اور باغی بچوں کو ’خودکش بمبار یا انسانی حصار‘ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی نمائندہ نے رپورٹ کے اعداد وشمار بیان کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ لیلہٰ زرگوئی نے نیو یارک میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ مارے جاتے ہیں، ان پر تشدد ہوتا ہے، انھیں حراست میں رکھا جاتا ہے، انھیں بھرتی کیا جاتا ہے اور اُن پر تشدد کیا جاتا ہے‘۔

رپورٹ میں شام کی فوج پر بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ باغی گروہ کے ساتھ وابستہ رہنے والے بچوں پر تشدد کرتی ہے جبکہ شام میں حزب مخالف بچوں کو لڑائی اور مدد کے لیے استعمال کر رہے ہیں جبکہ انھیں رسد کی نقل و حمل کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق ہلاکتوں کی سب سے زیادہ تعداد دیہی دمشق، حمص اور حلب کے علاقوں میں ہوئی ہیں۔

تنظیم نے فوری جنگ بندی کی اپیل کی اس سے پہلے کہ مزید ہزاروں افراد ہلاک ہوں۔

ناوی پلے کا کہنا تھا کہ’بااثر ریاستیں مل کر اس تنازع کو ختم کرنے کے لیے بہت کچھ کر سکتی ہیں اور انگنت جانیں بچا سکتی ہیں‘۔

انھوں نے کہا کہ اس تنازع میں سب سے زیادہ نقصان شہریوں کو ہو رہا ہے۔

اسی بارے میں