ایران:’بھرپور ٹرن آؤٹ‘ کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری

Image caption عوام سے سرکاری نتیجہ آنے تک جذبات پر قابو رکھنے کو کہا گیا ہے

ایران میں نئے صدر کے انتخاب کے لیے ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا ہے اور اس دوران لاکھوں افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے۔

ایران میں پانچ کروڑ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں اور ووٹروں کی بڑی تعداد کے پیشِ نظر ووٹنگ کے دورانیے میں چار گھنٹے کی توسیع کی گئی اور ووٹ ڈالنے کا سلسلہ مقامی وقت کے مطابق رات 11 بجے تک جاری رہا۔

’ان انتخابات میں اختلافات زیادہ نہیں‘

ایران کے وزیرِ داخلہ مصطفیٰ محمد نجار نے ابتدائی طور پر کہا کہ ووٹنگ شام چھ بجے کی بجائے آٹھ بجے تک جاری رہے گی تاہم اس کے بعد ایک بار پھر ووٹنگ کے دورانیے میں دو گھنٹے کا اضافہ کر دیا گیا۔

ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد اب گنتی کا عمل جاری ہے اور نتائج کا اعلان آنے والے چوبیس گھنٹے میں متوقع ہے۔

ادھر انتخاب میں حصہ لینے والے چھ کے چھ امیدواروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں اپنے حامیوں سے سرکاری نتیجہ آنے تک جذبات پر قابو رکھنے کو کہا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ہم عوام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ فتح کا جشن منانے کے لیے جلوسوں کی تیاری کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور سرکاری نتیجہ آنے تک جمع ہونے سے گریز کریں۔‘

ایرانیوں کے روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ انتخابی عمل میں بھرپور شرکت کریں۔

آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر ان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’جو کوئی بھی منتخب ہوتا ہے اور اگر اسے کثرت سے ووٹ ملتے ہیں تو وہ مخالفین اور دشمنوں کے خلاف زیادہ بہتر طریقے سے کھڑا ہونے کے قابل ہوگا۔‘

انتخاب میں چھ اُمیدوار مدِمقابل ہیں جن میں سے بیشتر قدامت پرست ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں صدارتی انتخاب لڑنے والےاُمیدواروں میں حسن روحانی اصلاح پسند کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

Image caption ایران کے نئے صدر کے انتخاب میں چھ امیدوار میدان میں ہیں

کامیاب ہونے والا امیدوار ملک کے موجودہ صدر محمود احمدی نژاد کی جگہ لے گا جو دو مرتبہ صدر رہنے کے بعد اب آئینی پابندی کی وجہ سے صدارتی انتخاب لڑنے کے اہل نہیں ہیں۔

صدر احمدی نژاد کا آٹھ سالہ دورہ اقتدار میں ایران کو اپنے متنازع جوہری پروگرام پر بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر پڑا۔ جس کے باعث ایران معاشی مشکلات سے دوچار ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار رچرڈ گلپین کے مطابق ایرانی صدر کے انتخاب میں گزشتہ ہفتے سے حیران کُن تبدیلی سامنے آئی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق حسن روحانی کی مغربی ممالک سے نئے روابط قائم کرنے کی ضرورت پر کی جانے والی تقریر کے بعد بھرپور عوامی پذیرائی ملی ہے۔

صدارتی انتخاب میں حسن روحانی کی حمایت میں اس وقت اضافہ دیکھا گیا جب منگل کو اس دوڑ میں شامل واحد اصلاح پسند امیدوار محمد رضا عارف نے سابق صدر محمد خاتمی کے مشورے پر اپنا نام واپس لینے کا اعلان کیا۔

اب حسن روحانی کو دو سابق صدور محمد خاتمی اور ہاشمی رفسنجانی کی حمایت حاصل ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ ایران میں اسلامی انقلاب لانے والے آیت اللہ روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی بھی حسن روحانی کے حامی ہیں۔

لیکن حسن روحانی کو سخت گیر موقف رکھنے والے اُمیدوار سے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔

ان قدامت پسند امیدواروں میں جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی اور تہران کے میئر محمد باقر قالیباف کے نام اہم ہیں۔

ان کے ساتھ اس مقابلے میں شامل دیگر قدامت پسند امیدواروں میں سابق وزیرِ خارجہ علی اکبر ولایتی اور پاسدارانِ انقلاب کے سابق سربراہ محسن رضائی اور محمد غرضی شامل ہیں۔

صدارتی الیکشن کے امیدواروں میں ایران کے مرکزی جوہری مذاکرات کار سعید جلیلی کو سب سے زیادہ قدامت پسند اور آیت اللہ خامنہ ای کے قریب سمجھا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ ایران میں 2009 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے کیونکہ صدر احمدی نژاد کے مخالفین کے خیال میں انہیں دھاندلی کر کے جتوایا گیا تھا۔

ایرانی اپوزیشن کے مطابق 2009 کے صدارتی انتخاب کے بعد آنے والے چھ ماہ میں حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اس کے 80 سے زائد حامی ہلاک کر دیے گئے لیکن ایرانی حکومت ان اعدادوشمار کو مسترد کرتی ہے۔اس صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والے دو اصلاح پسند امیدوار میر حسین موسوی اور سابق سپیکر مہدی کروبی آج بھی نظربند ہیں۔

لیکن2009 کے بعد اب ہونے والے انتخاب میں سابق ایرانی صدر رفسجانی کو نا اہل قرار دینے کے بعد ایران میں لبرل تحریک انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

ایران میں انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے غیر ملکی مبصرین موجود نہیں ہیں۔

اسی بارے میں