روس شام پر نو فلائی زون کا مخالف

Image caption رواں ہفتے امریکہ نے کہا تھا کہ وہ شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرے گا

روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ شام کے اوپر امریکی جیٹ طیاروں اور اردن میں نصب میزائلوں کی مدد سے نو فلائی زون قائم کرنا عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

امریکہ نے سالانہ فوجی مشق کے طور پر پیٹریاٹ میزائل اور ایف 16 طیارے اردن منتقل کر دیے ہیں۔

روس شامی تنازعے میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔

شام میں 2011 کے بعد سے بشار الاسد کے خلاف جاری شورش میں 93 ہزار کے لگ بھگ افراد مارے جا چکے ہیں۔

سرگئی لاوروف نے ماسکو میں اپنے اطالوی ہم منصب کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’مغربی میڈیا میں اس قسم کی اطلاعات مل رہی ہیں کہ شام میں اردن میں نصب پیٹریاٹ میزائلوں اور ایف 16 طیاروں کی مدد سے نو فلائی زون قائم کرنے پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔‘

انہوں نے کہا کہ ’آپ کو یہ بات سمجھنے کے لیے بہت بڑا ماہر ہونے کی ضرورت نہیں ہے کہ اس سے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔‘

روسی وزیرِ خارجہ نے کہا کہ امریکہ نے شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں جو شواہد دیے ہیں وہ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کے ادارے کی طرف سے جاری کردہ تصدیقی معیار پر پورا نہیں اترتے۔

امریکی حکومت نے اسی ہفتے کہا تھا کہ وہ شامی باغیوں کو اسلحہ فراہم کرے گا کیوں کہ صدر اسد کی حکومت نے اس خانہ جنگی کے دوران کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

خطے میں مغرب کے اتحادی قطر اور سعودی عرب باغیوں کو اسلحہ اور دوسری فوجی امداد فراہم کرتے رہے ہیں۔

تاہم جب شامی حکومت نے روس اور ایران کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھایا تو اس سے پانسہ پلٹنے لگا۔ حال ہی میں قصیر کے اہم قصبے سے باغیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے لبنان سے حزب اللہ کے جنگ جوؤں نے شامی حکومت کا ہاتھ بٹایا تھا۔

جمعے کو حزب اللہ کے رہنما شیخ حسن نصراللہ نے وعدہ کیا تھا کہ ’جب بھی ضرورت پڑی‘ وہ شام میں لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

اسی بارے میں