عراق دھماکوں میں کم از کم 30 افراد ہلاک

عراقی میں حکام کے مطابق اتوار کی صبح ملک میں ہونے والے کار بم دھماکوں اور فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 30 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔

یہ کار دھماکے زیادہ تر ان علاقوں میں ہوئے ہیں جہاں شیعہ آبادی اکثریت میں ہے جبکہ فائرنگ کا ایک واقعہ ملک کے شمالی علاقے موصل میں پیش آیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے پی نے پولیس کے حوالے سے بتایا کہ یہ خوفناک دھماکے عراق کے شہر کوت کے گردوونواح میں ہوئے جہاں دو کاروں میں بم رکھے گئے تھے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بغداد کے جنوب میں واقع شہروں میں کم از کم سات کار بم دھماکے ہوئے ہیں جن میں کم از کم 56 افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ابھی تک کسی بھی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے تاہم اے ایف پی کے مطابق اس طرح کے حملے القاعدہ سے منسلک سنی عسکریت پسند گروپ کرتے ہیں جو عام طور پر شیعہ مسلک کے لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ بم دھماکے کوت، عزیزیہ، محمودیہ، ناصریہ اور بصرہ میں ہوئے ہیں۔

بغداد سے 160 کلو میٹر جنوب میں واقع کوت کے ایک ریستوراں کے باہر ہونے والے کار بم دھماکے میں 7 افراد ہلاک جبکہ 15 افراد زخمی ہوئے۔

ایک دوسرا دھماکہ عزیزیہ شہر کے اہم بازار میں ایک شیعہ مسجد کے قریب ہوا جس میں 5 افراد ہلاک اور 10 زخمی ہوئے۔

بصرہ میں بھی دو دھماکے ہوئے جس میں 5 افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ناصریہ اور محمودیہ میں ہوئے دھماکوں میں مزید 3 افراد ہلاک ہوئے۔

ملک میں گزشتہ کچھ عرصے سےالقاعدہ سے تعلق رکھنے والے سنی شدت پسندوں نے حکومت کو غیر مستحکم کرنے کے لیے کئی حملے کیے ہیں جن میں عام شہریوں اور سرکاری اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

عراق میں اگرچہ سنہ 2006 اور2007 کے مقابلے میں تشدد میں کمی آئی ہے تاہم اب بھی وہاں بم حملے ہوتے رہتے ہیں۔

اسی بارے میں