دمشق کے قریب فوجی اڈے میں طاقتور دھماکہ

Image caption اقوام متحدہ کے مطابق شام میں 93 ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں واقع ایک فوجی اڈے پر ایک طاقتور دھماکہ ہوا ہے۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق دھماکہ جنوبی میزہ میں واقع فوجی اڈے کو’دہشت گرد کارروائی میں ہدف‘ بنانے کی کوشش تھی۔

حزب مخالف کے گروہوں کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز دارالحکومت کے اکثر علاقوں میں سنی گئی۔

میزہ کے فوجی اڈے کا شمار اہم دفاعی تنصیبات میں ہوتا ہے اور فوجی سازو سامان کی ترسیل میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حزب مخالف کے گروہوں کے مطابق دھماکے کے بعد فوجی اڈے سے آگ کا بڑا شعلہ بلند ہوا اور اس کے بعد ایمبولینس فوجی اڈے کی جانب جاتی دیکھی ہیں۔

برطانیہ میں شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی حقوق انسانی کی تنظیم’ایس او ایچ آر‘ کے مطابق فوجی اڈے کے قریب ایک فوجی چیک پوسٹ کو کار بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔

رواں سال اپریل میں اسی ضلع میں شام کے وزیراعظم پر ایک کار بم حملہ ہوا تھا تاہم وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔

حالیہ ہفتوں میں شام کی سکیورٹی فورسز نے دارالحکومت کے مضافات میں کئی جگہوں سے باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔

گزشتہ ماہ شام نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے دمشق کے قریب ایک فوجی مرکز کو راکٹ حملے میں نشانہ بنایا تھا اور لبان کی سرحد کے قریب میزائلیوں کی کھیپ کو نشانہ بنایا تھا۔

شام میں مارچ سال دو ہزار گیارہ سے جاری شورش کے نتیجے میں اب تک تیرانوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں