کامیابی اعتدال پسندی کی جیت ہے:حسن روحانی

Image caption رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے حسن روحانی کو انتخابات میں کامیابی پر مبارک باد دی ہے

ایران کے نومنتخب صدر حسن روحانی نے انتخابات میں اپنی کامیابی کو’انتہا پسندی کے خلاف اعتدال پسندی کی جیت‘ قرار دیا ہے۔

ایران میں جمعے کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں اصلاح پسندوں کے حمایت یافتہ رہنما حسن روحانی نے واضح کامیابی حاصل کر لی تھی۔

ملک کے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد حسن روحانی نے اپنی کامیابی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ ’ان لوگوں کے لیے ایک نیا موقعہ فراہم کیا گیا ہے جو حقیقی معنوں میں جمہوریت، روابط اور بات چیت کی قدر کرتے ہیں۔‘

چونسٹھ سالہ مذہبی پیشوا حسن روحانی نے کہا کہ’ اللہ کا شکر ہے کہ ایران میں ایک بار پھر سوج بوجھ اور اعتدال پسندی چھا گئی ہے۔ یہ انتہا پسندی کے خلاف عقل، پختگی اور اعتدال پسندی کی جیت ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ اقوام جو جمہوریت اور مذاکرات کی پرچار کرتی ہیں، ایران کے ساتھ عزت و احترام سے بات کریں اور اس کے حقوق کو تسلیم کریں۔‘

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای نے حسن روحانی کو انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ’میں سب پر زور دیتا ہوں کہ نومنتخب صدر اور ان کے ساتھیوں کی مدد کریں کیونکہ وہ پوری قوم کے صدر ہیں۔‘

رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای تین اگست کو انتخاب کی توثیق کریں گے جس کے بعد نئے صدر پارلیمان میں حلف اٹھائیں گے۔

انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ہزاروں لوگ تہران کی گلیوں میں نکل آئے اور حسن روحانی کے حق میں نعرے بازی کی۔

صدارتی انتخاب میں حسن روحانی کی فتح کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم نے بین الاقوامی برادری کی طرف سے ایران کو جوہری پروگرام ترک کرنے کے لیے مسلسل دباؤ ڈالنے پر زور دیا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم بین یامین نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق انہوں نےکہا کہ ’بین الاقوامی برادری کو کسی خام خیالی یا لالچ میں آ کر ایران پر جوہری پروگرام ترک کرنے کے لیے دباؤ کم نہیں کرنا چاہیے۔‘

حسن روحانی کے انتخاب پر ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی حکومت نے کہا کہ وہ ایران سے اس کے جوہری گروگرام پر براہ راست بات کرنے پر تیار ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں نو منتخب صدر کو مبارکباد نہیں دی گئی مگر ایرانی لوگوں کی تعریف کی گئی کہ انہوں نے حکومتی رکاوٹوں، سنسرشپ، شفافیت کی عدم موجودگی اور دھمکی آمیز سکیورٹی کے باوجود ہمت کی۔

ایران کے انتخاب پر ایسا ہی ردعمل دیگر یورپی ممالک کی جانب سے بھی آیا ہے۔

برطانیہ کے دفترِ خارجہ نے حسن روحانی پر زور دیا کہ ’وہ ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق بین الاقوامی برادری کے خدشات کا ازالہ کرتے ہوئے ملک کو مستقبل میں ایک مختلف راستے پر ڈالیں اور ایرانی عوام کے لیے سیاسی و انسانی حقوق کو بہتر بنائیں۔‘

فرانسیسی حکومت نے کہا کہ وہ نئے ایرانی رہنما کے ساتھ ’کام کرنے‘ کو تیار ہیں جبکہ روسی صدر ویلادی میر پوتن نے حسن روحانی پر زور دیا کہ وہ ماسکو کے ساتھ قریبی تعلقات استوار کریں۔

صدارتی انتخاب میں حسن روحانی نے پچاس فیصد سے معمولی زیادہ ووٹ لیے ہیں اس لیے ثانوی انتخاب کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

تہران کے میئر محمد باقر قالیباف نے دوسری پوزیشن حاصل کی لیکن ان کے ووٹ حسن روحانی کے مقابلے میں بہت کم تھے۔

پانچ کروڑ کے قریب ایرانی ووٹروں میں سے 72.2 فیصد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔ حسن روحانی نے عالمی طاقتوں کے ساتھ بہتر روابط کا عزم ظاہر کیا ہے۔

یاد رہے کہ ایران میں سنہ 2009 میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے نتائج کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے کیونکہ صدر احمدی نژاد کے مخالفین کے خیال میں انہیں دھاندلی کر کے جتوایا گیا تھا۔

ایرانی اپوزیشن کے مطابق سنہ 2009 کے صدارتی انتخاب کے بعد آنے والے 6 ماہ میں حکومتی کریک ڈاؤن کے نتیجے میں اس کے 80 سے زائد حامی ہلاک کر دیے گئے لیکن ایرانی حکومت ان اعداد و شمار کو مسترد کرتی ہے۔

اُن صدارتی الیکشن میں حصہ لینے والے دو اصلاح پسند امیدوار میر حسین موسوی اور سابق سپیکر مہدی کروبی اب بھی نظربند ہیں۔

لیکن سنہ 2009 کے بعد اب ہونے والے انتخاب میں سابق ایرانی صدر رفسجانی کو نا اہل قرار دینے کے بعد ایران میں لبرل تحریک انتخاب میں حصہ لینے یا نہ لینے پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی تھی۔

ایران میں انتخابی عمل کا جائزہ لینے کے لیے غیر ملکی مبصرین موجود نہیں تھے۔

اسی بارے میں