ترکی میں مظاہرے جاری، اردوغان کا جوابی جلسہ

Image caption اردوغان کے جلوس میں دسیوں ہزار افراد نے شرکت کی

ترکی کے دارالحکومت انقرہ اور استنبول میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں جبکہ وزیراعظم رجب طیب اردوغان نے استنبول میں اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم سکوائر سے مظاہرین کو نکالنا ان کی ذمہ داری تھی۔

تقسیم سکوائر ترکی میں حکومت مخالف مظاہروں کا مرکز بن گیا تھا۔

ترک وزیراعظم نے آمر ہونے سے انکار کرتے ہوئے غیرملکی ذرائع ابلاغ پر تنقید کرتے ہوئے عزم کیا کہ وہ گلیوں کو دہشت زدہ کرنے والے عناصر کی ایک ایک کر کے شناخت کریں گے۔

اتوار کو انقرہ اور استنبول میں تازہ شورش اس وقت پھوٹ پڑی جب وزیرِاعظم رجب طیب اردوغان کے حامی بڑی تعداد میں استنبول میں طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ 18 روز قبل پارک پر مظاہرین کے قبضے کے بعد سے ہونے والی بدترین شورش ہے۔

پولیس نے حکومت مخالف مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کی ہیں۔

اس وقت چوک کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا ہے اور شہر میں لوگوں کی تلاشی لی جا رہی ہیں، اور ان کی شناخت چیک کی جا رہی ہے۔

استنبول کے گورنر حسین اونی موتلو نے کہا کہ لوگوں کو چوک میں جمع ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیوں کہ یہ ان کے لیے محفوظ نہیں ہو گا۔

مزدوروں کی ایک تنظیم نے کہا ہے کہ وہ پیر کو ملگ گیر ہڑتال کرے گی، جبکہ ایک اور مزدور تنظیم بھی ہڑتال کرنے کے بارے میں غور کر رہی ہے۔

ترکی میں یہ ہنگامے مئی کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب حکومت نے استنبول میں عوامی گیزی باغ کی جگہ پر ایک شاپنگ سینٹر کی تعمیر کا منصوبہ شروع کرنا چاہا۔ اس کے بعد حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ بڑھ کر پورے ملک میں پھیل گیا۔

مظاہرین کا اعتراض ہے کہ تین بار وزیرِاعظم منتخب ہونے والے اردوغان نے ان سے نمٹنے میں ضرورت سے زیادہ سختی دکھائی ہے۔

طبی حکام کے مطابق 31 مئی کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک پانچ ہزار افراد زخمی اور چار مارے جا چکے ہیں۔

پولیس نے اتوار کی سہ پہر انقرہ کے کزیلے چوک سے مظاہرین کو نکالنے کے آنسو گیس اور پانی کی توپیں استعمال کیں۔اس دوران کم از کم چار افراد زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل پولیس نے استنبول کے تقسیم چوک کو زبردستی خالی کروا لیا تھا جس کے بعد مظاہرین شہر کی گلیوں میں پھیل گئے تھے جہاں ان کی پولیس کے ساتھ دن بھر جھڑپیں ہوتی رہیں۔

اس دوران شہر کے ایک سرے پر اردوغان اور ان کی اسلام پسند انصاف و ترقی جماعت کے حق میں جلوس نکالا گیا۔جلوس میں اردوغان کے دسیوں ہزار حامیہ نے حصہ لیا۔

اردوغان نے تقسیم چوک میں ہونے والی پولیس کی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ’میں نے کہہ دیا تھا کہ ہم آخری حد پہنچ گئے ہیں۔ یہ ناقابلِ برداشت تھا۔ کل کارروائی کی گئی جس نے صفائی کر دی۔ یہ بطورِ وزیرِاعظم میرا فرض تھا۔‘

استنبول میں بی بی سی کے نامہ نگار کرس مورس کہتے ہیں کہ ماحول اور موسم کی مناسبت سے یہ اردوغان کے یہ پیغام بھیجنے کے مثالی دن تھا کہ ’اختیار میرے پاس ہے۔‘

اس دوران لوگوں نے نعرے لگائے: ’عوام یہاں ہیں، لٹیرے کہاں ہیں؟‘

رویدا الکان نامی ایک حامی نے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا: ’ہم خاموش اکثریت ہیں، وہ ایرے غیرے نہیں ہیں جو ہمیں ڈرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘

اردوغان نے گیزی پارک کی تعمیرِنو کو ملتوی کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جب کہ عدالتیں اس کی قانونی حیثیت کا جائزہ لے رہی ہیں۔

اسی بارے میں