’تین سو سے کم کالز کی تفصیلات معلوم کیں‘

Image caption امریکی انتظامہ کا اصرار ہے کہ یہ ڈیٹا لینا قانونی ہے بشرطِ یہ کہہ اس میں امریکیوں کی نجی زندگی میں دخل اندازی نہ ہو

امریکی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک دستاویز میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی نے گذشتہ ایک سال کے دوران تین سو سے بھی کم ٹیلی فون کالز کی تفصیلات معلوم کیں ہیں۔

دستاویز کے مطابق یہ کالز نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی طرف سے جمع کردہ لاکھوں ای میل اور فون ریکارڈ میں سے چنی گئیں۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس قسم کی تحقیقات سے اُن افراد تک رسائی حاصل ہو سکی جو 2009 میں نیویارک کے زیرِ زمین ٹرین نظام پر حملے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

اس دستاویز کو امریکی جاسوسی ایجنسیوں نے حکومتی اداروں کے اندر تقسیم کیا ہے جسے سینیٹ انٹیلیجنس کمیٹی اتوار کو منظر عام پر لے آئی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ حکومت اس دستاویز کے ذریعے اُن الزامات کا مقابلہ کرنا چاہتی ہے جن میں ان پر متوقع دہشت گردوں کو ڈھونڈنے میں حد سے تجاوز کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی امریکہ میں قائم ٹیلی فون اور انٹرنیٹ کمپنیوں سے ڈیٹا جمع کرتی ہے۔

انتظامہ کا اصرار ہے کہ یہ ڈیٹا لینا قانونی ہے بشرطِ یہ کہہ اس میں امریکیوں کی نجی زندگی میں دخل اندازی نہ ہو اور جمع کردہ ڈیٹا ہر پانچ سال بعد ضائع کر دیا جاتا ہو۔

دستاویز میں حکومتی ترجمان کی اس بات کو دہرایا گیا ہے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی طرف سے جمع کردہ ای میل اور ٹیلیفون کالز کی مدد سے ’امریکہ اور دنیا کے بیس ممالک میں درجنوں ممکنہ دہشت گرد کارروائیوں کو روکنے میں مدد ملی ہے۔‘

تاہم اس میں ممکنہ دہشت گرد منصوبوں اور متعلقہ ممالک کے بارے نہیں بتایا گیا ہے۔

خیال رہے کہ نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ایک سابق اہلکار ایڈورڈ سنوڈن نے چند روز قبل برطانوی اخبار گارڈین کو نیشنل سکیورٹی ایجنسی کی جانب سے بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کے بارے میں بتایا تھا اور اخبار نے انہی کے کہنے پر ان کا نام ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے پرزم نامی اس پروگرام کے بارے میں معلومات عام کرنے کا فیصلہ ساری دنیا لوگوں کو آزادیوں کو بچانے کے لیے کیا۔

برطانوی اخبار گارڈین نے خبر شائع کی تھی کہ امریکی خفیہ ایجنسی کے اس پروگرام کے ذریعے لوگوں کی ذاتی ویڈیوز، تصاویر اور ای میلز تک نکال لی جاتی ہیں تاکہ مخصوص لوگوں پر نظر رکھی جا سکے۔

ایڈورڈ سنوڈن اس وقت ہانگ کانگ میں روپوش ہیں۔

اسی بارے میں