جی 20 مندوبین کی برطانوی ’جاسوسی‘ پر سفارتی تنازعہ

Image caption برطانوی خفیہ ادارے نے مندوبین کے کمپیوٹروں کی نگرانی کی اور ان کے فون ریکارڈ کیے تھے: رپورٹ

برطانیہ کی طرف سے 2009 میں لندن میں ہونے والے جی 20 اجلاس کے دوران مندوبین کی مبینہ جاسوسی نے ایک سفارتی تنازعے کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ترکی، روس اور جنوبی افریقہ نے اس کی مذمت کرتے ہوئے برطانوی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔

گارڈین اخبار نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ افشا شدہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2009 میں لندن میں جی 20 ممالک کے اجلاس کے دوران برطانیہ کے انٹیلی جنس ادارے نے بیرونی سیاست دانوں کی جاسوسی کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ترکی، جنوبی افریقہ اور روس کے مندوبین کے کمپیوٹروں کی نگرانی کی گئی اور ان کے فون ریکارڈ کیے گئے تھے۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ یہ دعویٰ پریشان کن ہے کہ اس دوران ترک وزیرِخارجہ کی فون پر کی گئی گفتگو ریکارڈ کی گئی تھی، اور اگر اس بات میں ذرا برابر بھی سچ ہے تو یہ ایک سکینڈل ہے۔

ترک حکومت نے برطانیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس اخباری خبر کے بعد ’سرکاری اور اطمینان بخش وضاحت‘ کرے۔

Image caption سی آئی اے کے سابق اہلکار ایڈورڈز سنوڈن نے برطانیہ کی طرف سے جی 20 کے مندوبین کی جاسوسی کی معلومات کو افشا کیا ہے

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ’پرائیویسی کی خلاف ورزی‘ کی رپورٹ کو تشویش کی نظر دیکھتے ہیں۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ انہوں نے ابھی تک مکمل رپورٹ نہیں دیکھی ہے لیکن جو کچھ سامنے آیا ہے وہ قابل مذمت ہے۔

جنوبی افریقہ کی حکومت نے کہا ہے کہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ کے مابین انتہائی گہرے تعلقات ہیں اور وہ امید کرتے ہیں اس معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی۔

گارڈین کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے انٹیلی جنس ادارے کو پتہ چلا تھا کہ امریکہ نے اس وقت کے روسی صدر دیمتری میدوی ایدف کی سیٹلائٹ فون پر کی جانے والے کال کو ریکارڈ کرنے کی کوشش کی تھی۔

روس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ ایلکسی پشکوف نے کہا ہے کہ یہ ایک سکینڈل ہے۔ انہوں نے روسی پارلیمنٹ کے ٹوئٹر اکاونٹ پر لکھا ہے :’ یہ ایک سکینڈل ہے، امریکہ اس کی تردید کرتا ہے لیکن ہم ان پر اعتماد نہیں کر سکتے۔‘.

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اسی دوران شمالی آئرلینڈ میں جی ایٹ کا اجلاس جاری ہے جس میں دنیا کے آٹھ بڑے ملکوں کے رہنما حصہ لے رہے ہیں۔ جی ایٹ اجلاس میں شریک تمام ممالک 2009 کے جے 20 کے اجلاس میں بھی شریک تھے۔

گارڈین اخبار کی رپورٹ کے مطابق امریکی سی آئی اے کے ایجنٹ ایڈورڈز سنوڈن کی طرف سے افشا کی جانے والی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ کی سائبر جاسوسی کے ادارے جی سی ایچ کیو نے چار برس قبل جی 20 کے دو سربراہی اجلاسوں کے دوران بیرونی سیاست دانوں کی جاسوسی کی تھی۔

اخبار کی رپورٹ میں کہاگیا تھا کہ افشا شدہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی انٹیلی جنس اداروں نے مخصوص انٹرنیٹ کیفے قائم کر رکھے تھے تاکہ اجلاس میں شامل افراد کی ای میلز پڑھی جا سکیں۔

اخبار نے لکھا تھا کہ اس کارروائی کی منظوری اس وقت کے وزیرِاعظم گورڈن براؤن کی حکومت میں اعلیٰ سطح پر دی گئی تھی اور حاصل شدہ معلومات کو وزیروں تک پہنچایا گیا تھا۔

برطانوی دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ ترکی نے اس معاملے پر برطانوی سفیر سر ڈیوڈ ریڈاوے سے بات کی ہے۔

ایک ترجمان نے کہا: ’طے شدہ روایت کے تحت ہم انٹیلی جنس کے معاملات پر تبصرہ نہیں کرتے۔‘

تاہم انھوں نے کہا کہ سفیر کو ترک وزارتِ خارجہ میں طلب نہیں کیا گیا تھا بلکہ یہ بات ان سے فون پر کی گئی۔

امید کی جا رہی ہے کہ برطانوی حکومت اس واقعے پر اپنے وضاحت پیش کرے گی۔

خفیہ نگرانی کی یہ تفصیلات ان دستاویزات میں موجود تھیں جو سنوڈن نے فراہم کی تھیں اور جن میں امریکی خفیہ ادارے نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے کارروائیوں کے بارے میں کئی انکشافات موجود تھے۔

اسی بارے میں