افغان فوج نے ملک کی سکیورٹی سنبھال لی

Image caption ’اب سے تمام تر ذمہ داری اور قیادت ہماری بہادر فوج کے پاس ہوگی۔‘ صدر کرزئی

نیٹو نے باضابطہ طور پر افغانستان میں سکیورٹی اور جنگی آپریشنز کی قیادت افغان حکومت کے حوالے کر دی ہے۔

اس بات کا اعلان آج صدر حامد کرزئی نے ایک خصوصی تقریب میں کیا جس میں ملک کے آخری پچانوے اضلاع کی سیکورٹی کو بھی افغان حکام کے زیرِ انتظام دے دیا گیا۔

ملک میں جنگی آپریشنز کی نیٹو سے افغان حکام کو منتقلی ملک سے بین الاقوامی افواج کے انخلا کا اہم مرحلہ ہے۔

ساڑھے تین لاکھ افراد پر مشتمل افغان فوج کو نیٹو نے سنہ 2011 سے مرحلہ وار ذمہ داریاں سونپنا شروع کر دیں تھیں۔

اس سلسلے میں منعقد تقریب سے تھوڑی دیر پہلے ہی دارالحکومت کابل کے مغربی حصے میں ایک دھماکے میں تین افراد ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس حملے کا نشانہ ہزارہ برادری کے رہنما اور سابق رکن پارلیمان حاجی محمد محقق کا کارواں تھا۔

صدر حامد کرزئی اور نیٹو کے سیکٹری جنرل آندرس راسموسن دونوں نے اس موقعے کو افغانستان کے لیے تاریخی قرار دیا۔

صدر کرزئی نے اپنی تقریر میں کہا ’اب سے ہماری سیکورٹی فورسز سب سے آگے ہوں گی۔ اب سے تمام تر ذمہ داری اور قیادت ہماری بہادر فوج کے پاس ہوگی‘۔

نیٹو کے سیکٹری جنرل نے افغانستان کی ’بہادر اور پرعزم‘ افواج کو خراجِ تحسین پیش کیا جنہوں نے ’اپنے ملک کے دفاع کے لیے سب سے بڑی قربانی دی ہے‘۔

1989 میں سویت فوجوں کے انخلا کے بعد یہ پہلی بار ہے کہ ملک میں سیکورٹی افغان حکومت کے زیرِ انتظام فوج کے پاس آئی ہے۔

آخری مرحلے میں آج کندھار صوبے میں تیرہ اضلاع اور پاکستان کے سرحدی علاقے میں صوبوں نانگرہار، غوست اور پکتیا سے بارہ بارہ اضلاع کی ذمہ داری منتقل کی گئی۔

آج سے چھ سال قبل افغان فوج کی تعداد صرف چالیس ہزار تھی جو آج بڑھ کر تقریباً ساڑھے تین لاکھ ہو چکی ہیں۔

تاہم بڑھتی ہوئی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ افغان فوجیوں کی ہلاکتوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ دوسری جانب سنہ دو ہزار دس سے بین الاقوامی فوجیوں کی ہلاکتیں کم ہوتی رہی ہیں۔

ایساف کمانڈر جنرل جوزف ڈنفرڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ مشکلات کے باوجود افغان فوج اپنا کردار نبھانے کے قابل ہوتی جا رہی ہے۔

کابل میں چند حالیہ حملوں میں افغان پولیس نے ایساف کی مدد کے بغیر ہی دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔

افغانستان میں ایساف فوجیوں کی سب سے زیادہ سطح سنہ 2011 میں تھی جب ان کی تعداد ایک لاکھ چالیس ہزار تھی جن میں سے لگ بھگ ایک لاکھ امریکی فوجی تھے۔

اس وقت یہ تعداد 97 ہزار ہے جن میں سے 68 ہزار فوجی امریکی ہیں۔

اسی بارے میں