گوانتانامو بے: انتہائی خطرناک قیدیوں کی فہرست جاری

Image caption اپریل کے ماہ میں اس جیل میں قیدیوں اور محافظوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی

امریکی وزارتِ دفاع نے گوانتانامو بے میں قید اُن اڑتالیس قیدیوں کے ناموں کی فہرست جاری کی ہے جنہیں وہ رہائی کے لیے انتہائی خطرناک تصور کرتے ہیں۔

ان قیدیوں میں ایسے بھی قیدی ہیں جن کے مقدمے چلانے کے لیے امریکی حکام کے پاس اس وقت عدالتوں کو قابلِ قبول شواہد کی کمی ہے۔

اس فہرست بیشتر افراد کا تعلق یمن یا افغانستان سے ہے۔

یہ فہرست اخبار مائیمی ہیرلڈ اور امریکہ میں ییئل یونیورسٹی کے چند طلبہ کی جانب سے کیے گئے مقدمے کے نتیجے میں سامنے آئی ہے۔

اس سے پہلے امریکی فوج کے زیرِ انتظام جیل گوانتانامو بے کو بند کرنے کے لیے کلفرڈ سلون نامی واشنگٹن کے ایک وکیل کو سفارتی مندوب بنایا گیا تھا۔

گوانتانامو بے جیل کو بند کرنے کی انتظامیہ کے سابق سربراہ نے جنوری میں اپنا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔

کلفرڈ سلون وزیرِ خارجہ جان کیری کے قریبی ساتھی تصور کیے جاتے ہیں۔

گذشتہ ماہ صدر اوباما نے اس جیل کو بند کرنے کی کوشش جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ یہ جیل ہماری شناخت کے متضاد ہے اور امریکی مفاد کے منافی ہے۔

سنہ دو ہزار نو میں صدر اوباما نے اپنا عہدہ سنبھالتے ہی اس جیل کو اس سال کے اندر بند کرنے کا وعدہ کیا تھا تاہم اِن قیدیوں کو امریکہ کے اندر جیلوں میں منتقل کرنے کی صدر اوباما کی کوششوں کی کانگریس میں دونوں پارٹیوں نے شدید مخالفت کی۔

یاد رہے کہ اپریل میں اس جیل میں بعض قیدیوں کو مشترکہ کمروں سے نکال کر دوسرے کمروں میں منتقل کرنے کے مسئلے پر قیدیوں اور محافظوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔ ان میں سے بعض قیدی بھوک ہڑتال پر تھے۔

اس موقع پر امریکی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ یہ قدم اس وقت اٹھایا گیا تھا جب قیدیوں نے نگرانی کے کیمرے اور کھڑکیوں کو ڈھانپ دیا تھا۔

وزیرِ خارجہ جان کیری نے اتوار کو ایک بیان میں کلفرڈ سلون کی تقرری کے حوالے سے کہا کہ اس چیلنج کو قبول کرنے کے لیے کلفرڈ سلون کی آمادگی کے لیے شکر گزار ہیں۔

انھوں نے مزید کہا کہ کلفرڈ سلون میرے اور صدر اوباما کی اُس رائے سے متفق ہیں کہ اس جیل کا وجود امریکی مفادات کے منافی ہے۔

اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک سو قیدیوں کو آزاد کیے جانے کے لیے منظوری دی جا چکی ہے لیکن وہ کانگریس کی طرف سے عائد کی جانے والی پابندیوں اور ان کے اپنے ملکوں میں برے سلوک کے خدشے کے پیشِ نظر اب بھی وہاں قید ہیں۔

اسی بارے میں