’دفتر کا کھلنا مذاکرات کے آغاز کی جانب ایک قدم‘

Image caption ’طالبان کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ ابھی کافی دور ہے۔‘ سفارتی ذرائع

افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا کہ اعلیٰ امن کمیٹی کے ارکان منگل کو قطر جائیں گے جہاں وہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کریں گے۔

دوسری جانب ذرائع نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان دفتر کھول رہا ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ طالبان کا یہ دفتر منگل کی شام تک کھل جائے گا۔

دوحہ میں طالبان کا دفتر کھلنا طالبان کو ایک سیاسی چہرہ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

واضح رہے کہ طالبان نے ماضی میں حامد کرزئی کی حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

اس سے قبل پاکستان میں افغان سفارتی اہلکاروں نے بی بی سی اردو کو بتایا تھا کہ عرب ریاست قطر میں طالبان کے دفتر کھولنے میں ابھی وقت لگے گا کیونکہ ابھی تک امریکہ سے اس بابت ضمانتوں کو حتمی شکل دینے پر بات چیت جاری ہے۔

ادھر الجزیرہ ٹی وی چینل نے خبر دی ہے کہ طالبان اسی ہفتے یا شاید منگل کو قطر میں اپنا سیاسی دفتر کھول دیں گے۔ تاہم اس خبر کے بارے میں افغان حکومت نے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے اور فی الحال خاموش ہے۔

دوسری جانب اسلام آباد میں افغان سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ دفتر کھولنے میں ابھی مزید وقت لگ سکتا ہے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق افغان حکومت نے امریکہ سے اس دفتر کی بابت ضمانت مانگی تھی جس کے مسودے پر بات ہو رہی ہے۔

سفارتی ذرائع کے مطابق اس بات کی ضمانت حاصل کی جا رہی ہے کہ طالبان یہ دفتر صرف سیاسی مقاصد یعنی ہائی پیس کونسل سے مذاکرات کے لیے استعمال کریں گے۔ اعلیٰ امن کونسل افغان حکومت کی جانب سے حزب اختلاف سے مذاکرات کے لیے قائم کی گئی تھی۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دفتر کا کُھلنا مذاکرات کے آغاز کی جانب صرف ایک قدم ہوگا مذاکرات کی شروعات نہیں۔

افغان سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ’طالبان کے ساتھ کسی قسم کا معاہدہ ابھی کافی دور ہے۔ یہ سال 2017 تک بھی شاید ممکن نہ ہو۔ لیکن ہم پُرامید ہیں کہ اس سلسلے کے آغاز سے حالات میں بہتری آسکتی ہے اور آئندہ برس کے عام انتخابات کے قدرے پرامن انقاد میں مدد مل سکتی ہے۔‘

اس عمل میں پاکستان کے کردار کے بارے میں افغان حکام کا کہنا ہے کہ قطر مذاکرات میں پاکستان کا براہ راست کوئی کردار نہیں تھا۔

’لیکن اگر دفتر کھولنے کی یہ پیش رفت مثبت انداز میں ہو رہی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان بھی اس کی حمایت کر رہا ہے۔‘

افغان صدر حامد کرزئی نے اس سال مارچ میں قطر کا دورہ کیا تھا جس میں انہوں نے وہاں کے حکام سے طالبان دفتر کے بارے میں بات چیت کی تھی۔ اس سے قبل افغان صدر ملک سے باہر کسی دفتر کے مخالف رہے تھے لیکن کہا جاتا ہے کہ امریکہ نے آئندہ برس افغانستان سے انخلاء کے تناظر میں افغان حکام کو اس پر رضا مند کیا ہے۔

افغانستان اور پاکستان نے قطر کے علاوہ سعودی عرب میں بھی طالبان کی جانب سے دفتر کھولنے کی ایک مشترکہ کوشش کا آغاز کیا تھا لیکن اب سفارتی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عدم دلچسپی کے باعث اس بابت کوئی پیش رفت اب تک نہیں ہوسکی ہے۔ دونوں ممالک کا خیال تھا کہ سعودی عرب کا طالبان پر قطر سے زیادہ اثر و رسوخ ہوگا لہذا وہ انہیں کسی بھی بات پر رضامند کرنے میں زیادہ مفید ہوں گے لیکن یہ منصوبہ کامیاب ثابت نہیں ہوا۔

اسی بارے میں