سنگاپور:دھواں کئی ہفتوں تک رہ سکتا ہے

سنگاپور میں پڑوسی ملک انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا کے جنگلوں میں بھڑکنے والی آگ کے نتیجے میں دھویں کے بادل چھا گئے ہیں اور وہاں فضائی آلودگی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے۔

سنگاپور کے وزیراعظم نے خبردار کیا ہے کہ دھویں کے بادل کئی ہفتوں تک موجود رہیں گے۔

انڈونیشا کے جزیرے سماٹرا کے جنگلات میں غیرقانونی آگ کے نتیجے میں سنگاپور کی فضا میں دھویں کے بادل چھا گئے۔

دھویں کا ذمہ دار کون ہے، اس سوال پر دونوں ملکوں میں الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔

دونوں ممالک کے ماحولیات کے حکام انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں ایک ہنگامی ملاقات کر رہے ہیں۔

سنگاپور کے ماحولیات اور آبی وسائل کے وزیر ڈاکٹر وائون بلاکرشنن نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک پر ایک پیغام میں کہا ہے کہ وہ انڈونیشیا سے مطالبہ کریں گے کہ وہ’حتمی‘ فیصلہ کرے۔

’کسی بھی ملک یا کارپوریشن کو سنگاپور کے شہریوں کی صحت اور فائدے کی قمیت پر فضا کو آلودہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔‘

تاہم انڈونیشیا کے وزیر برائے عوامی فلاح و بہبود آنگ سلکاسونو کا کہنا ہے کہ’سنگاپور ایک بچے کی طرح پیش آ رہا ہے‘۔

’یہ انڈونیشین قوم نہیں چاہتی بلکہ یہ قدرت کی وجہ سے ہوا ہے‘۔

سنگاپور کے وزیراعظم نے ایک پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ’دھواں آرام سے کئی ہفتوں تک موجود رہ سکتا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ سماٹرا میں خشک موسم کے اختتام تک یہ صورتحال رہے۔‘

وزیراعظم نے شہریوں سے کہا کہ’کوشش کریں کہ گھروں میں رہیں اور زیادہ دیر تک باہر رہنے سے گریز کریں گے‘۔

اس کے علاوہ وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ دھویں کی صورتحال کے بارے میں روزانہ کی بنیاد پر پریس کانفرس کی جائے گی۔

سنگاپور میں دھویں کے بادل چھانے کے بعد سے عمارتیں دھندلی نظر آ رہی ہیں اور علاقے میں لکڑی کے جلنے کی بو پھیلی ہوئی ہے۔

سنگاپور میں دھویں کے بادلوں کی وجہ سے ماسک کی مانگ میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ائر ٹریفک کنٹرولز کو کہا گیا ہے کہ وہ زیادہ احتیاط کریں جبکہ فاسٹ فوڈ ریستوران میکڈونلڈز نے کھانے کی ترسیل وقتی طور پر روک دی ہے۔

اسی بارے میں