نوجوانوں میں بے چینی کی مشترکہ علامات

Image caption بلغاریہ میں بدھ کو ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں ریاستی سکیورٹی کے متنازعہ سربراہ کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا

ترکی، بلغاریہ اور برازیل میں ہونے والے مظاہروں کے اوقات مختلف اور زبانیں الگ ہیں لیکن احتجاج کی علامات ایک جیسی ہیں۔

مظاہرے کرنے والے ان نوجوانوں کو دی جانے والے مجموعی سزا جیسے آنسو گیس کے جواب میں خمیے، گیس ماسک اور ہیلمٹ کا برجستہ استمعال، حکومتوں کے دفاع میں ہاتھ سے لکھے گئے گندے مندے اشارے،گزشتہ سال کے مظاہروں جیسی یکسانیت اور جوانی سے بھر پور مظاہرین۔

پولیس کی جانب سے آپریشن سے پہلے استبول کا گیزی پارک میں سہ پہر کے وقت سکولوں کے طالب علم گروہوں کی صورت میں آتے اور وہیں بیٹھ کر اپنا ہوم ورک کرتے تھے۔

تاہم ساؤ پالو سے آنے والی تصاویر بھی ایسی ہی کہانی بیان کر رہی ہیں۔

استنبول اور ساؤ پالو دونوں شہروں میں نظریاتی دور کے بعد پیدا ہونے والے افراد اپنی رُوداد بیان کرنے کے لیے جدید، شہری علامات استعمال کر رہے ہیں جیسے کہ قومی جھنڈا اور مقامی فٹبال ٹیم کے ناموں والی قمیض جو استنبول اور ساؤپالو میں یکساں مقبول ہیں۔

لیکن آخر اُن کی بے چینی کی وجہ کیا ہے ؟

سنہ 2011 میں برطانیہ اور جنوبی یورپ میں ہونے والے مظاہروں کی وجہ تو اقتصادی وعدے تھے جو منسوخ ہو گئے تھے۔

عرب سپرنگ کی کہانی بھی اس سے کچھ مختلف دکھائی دی۔ اِن ممالک خاص کر لیبیا کی معیشت تو خاصی ترقی کر رہے تھی لیکن وہاں پر بھی کچھ تو ایسا تھا جس نے بے چینی پیدا کی تھی۔ یہ پہلی نسل ہے جس کی نفسیات انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا تک رسائی کی باعث تبدیل ہوئی۔

Image caption ترکی کے لوگوں کی شکایت یہ ہے کہ ملک میں مذہبی قدامت پرست حکومت اُن کی آزادی کو مجروع کر رہی ہے

ہم نے دیکھا کہ سوشل میڈیا نے ریاستی پراپیگنڈہ، سنسرشپ اور حکومت کے حمایتی اخبارات کو با آسانی پچھے چھوڑ دیا۔

مصر میں صدر حسنی مبارک کی حکومت کے خلاف مظاہروں کے دوران سرکاری ٹیلی ویژن چینل پر اعتماد ختم ہو گیا تھا۔

رواں ماہ ترکی کے سرکاری ٹی وی کو مظاہروں کے بارے خبریں نشر نہ کرنے پر اُسے ڈھیروں شکایات موصول ہوئیں۔

ترکی میں سیاسیات کے پروفیسر نے بتایا ’ زیادہ تر شکایات اُن لوگوں کے جانب سے آئیں جن کی عمر 35 برس سے اوپر ہے۔ نواجون ٹی وی نہیں دیکھتے اور وہ کسی بھی طرح خبروں پر یقین نہیں کرتے ہیں‘۔

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ کے ذریعے نوجوان مظاہروں کے لیے فوراً منظم ہوئے اور انھوں نے اپنے اصولوں کے ساتھ تصادم پر ردِعمل کا اظہار کیا اور کامیاب پراپیگنڈہ کے خلاف جنگ شروع کی۔

استنبول کے تقسیم سکوائر پر حزب مخالف کے 60 گروہ کم ہی اکٹھے ہوئے تھے۔ ساؤپالو میں ہونے والے مظاہرے بھی اس طرز کے ہیں جہاں مخالفین کے کئی گروہ اکٹھے ہیں جنہوں نے خود ہی اس بات کا تعین کیا ہے کہ وہ کب آئیں گے، بینروں پر کیا لکھا جائے اور ہو گا کیا؟

استنبول پہنچتے ہی معاشی مارکیٹ میں میرے جاننے والوں نے مجھے پریشان کیا اور پوچھا کہ یہ کیوں احتجاج کر رہے ہیں؟ یہ دنیا کی تیز ترقی کرنے والی جگہ کب بنے گی؟

میں ان کے سوالوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلا۔ پہلے مرحلے میں کئی تعلیم یافتہ نوجوان نے شکایت کی کہ ملکی دولت اثرورسوخ رکھنے والے بدعنوان افراد کے ہاتھوں میں ہے۔ کئی نوجوانوں نے بتایا کہ ڈاکٹر، سول انجینئیر ہونے کے باوجود بھی وہ یہاں نہیں رہ سکتے ہیں۔

لیکن لوگوں کی سب سے بڑی شکایت یہ تھی کہ ملک میں ’اے کے‘ جماعت کی مذہبی قدامت پرست حکومت اُن کی آزادی کو مجروع کر رہی ہے۔

ترکی میں فیشن کے ایک مصنف جو متوازن انقلابی نہیں ہیں نے بتایا ’آزادی کے خلاف عداوت تیزی سے ظاہر ہو رہی ہے‘۔ وہ گیزی پارک میں خمیہ بستی پر پولیس کی کارروائی کو آزادی کے مخالف سمھجتے ہیں۔

ساؤپالو میں شکایات بہت سماجی نوعیت کی ہیں۔ ایک بینر پر لکھا تھا کہ ’ کم سٹیڈیم، زیادہ ہسپتال‘۔

ذرائع نقل وحمل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں جو حکومتی ترجیحات جیسے بنیادی ڈھانچہ اور کھیلوں کے لیے سٹیڈیم سے متعلق ہیں ان سے کیا حاصل ہوا؟

ترکی میں گزشتہ ہفتے پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے دوران ایک صحافی کو گرفتار کیا جس کے پاس سے سرکہ نکلا تھا۔

سرکہ آنسو گیس کے اثر کو کم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پولیس نے چار صحافیوں کو ربڑ کی گولوں سے نشانہ بنایا جس کے بعد احتجاج میں تیزی آ گئی۔

Image caption برازیل کی سڑکوں پر عوام ٹرانسپورٹ کی قیمتوں میں اضافے پر احتجاج کر رہے ہیں

ترکی میں پولیس کی ہر کارروائی سے مظاہرین کی پرتشدد تصاویر کو دنیا بھر میں بھیجنے کی صلاحیت کو مزید دوام بخشا۔

اپنے 30 سال کے صحافتی تجربے میں میرا تاثر یہی رہا ہے کہ مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کے آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پانی کی توپوں کے استعمال مظاہرین کے لیے ناقابل برداشت ہوتا ہے۔

بلغاریہ میں بدھ کو ہونے والے مظاہروں کے نتیجے میں ریاستی سکیورٹی کے متنازع سربراہ کو اپنے عہدے سے دستبردار ہونا پڑا۔

دنیا کے مختلف ممالک کی سڑکوں پر موجود لوگوں سے بات چیت کے بعد معلوم ہوا کہ وہ غربت کے بارے میں بات نہیں کرتے ہیں۔ وہ بدعنوانی ، جمہوریت کے فریب، گروہوں کی سیاست اور معاشی ترقی سے امراء کو ملنے والی کثیر دولت پر پریشان ہیں۔

سنہ 1989 میں مشرقی یورپ نے کیمونزم پر شخصی آزادی کو ترجیح دی تھی۔ لیکن آج سرمایہ دارانہ نظام کو ایسا آمراء سے پہچانا جاتا ہے جو غیر جوابدہ ہیں۔ جہاں موثر جمہوری احتساب کا فقدان اور جبری پالیسیاں رائج ہیں۔

گزشتہ تین برسوں کے واقعات میں یہ بات ظاہر ہوئی ہے کہ عام افراد جن کے پاس کوئی نظریہ بھی نہیں ہوتا ہے وہ بھی مزاحمت کا طریقہ ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔

اسی بارے میں