امریکہ کا ہانگ کانگ سے سنوڈن کو حوالے کرنے کا مطالبہ

Image caption برطانوی اخبار گارڈین نے ایڈورڈ سنوڈن کا نام انہیں کی درخواست پر ظاہر کیا ہے

امریکہ کی جانب سے نگرانی کے پروگرام کی معلومات منظر عام پر لانے والے سی آئی اے کے سابق اہلکار کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کے بعد ہانگ کانگ سے اہلکار کی حوالگی کا مطالبہ کیا ہے۔

امریکی صدر براک اوباما کی انتظامیہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے ہانگ کانگ سے ایڈورڈ سنوڈن کو امریکہ کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اوباما انتظامیہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ سنوڈن کی حوالگی کا مطالبہ ہانگ کانگ اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود معاہدے کے تحت کیا گیا ہے۔

اہلکار نے مزید کہا کہ ’اگر ہانگ کانگ سنوڈن کو امریکہ کے حوالے نہیں کرتا تو امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں۔

اس سے قبل امریکی وزارت دفاع کی جانب سے فردِ جرم عائد کیا گیا۔ ان پر لگائے گئے الزامات میں جاسوسی اور حکومت املاک کی چوری شامل ہے۔

ایڈورڈ نے برطانوی اخبار کو بتایا تھا کہ امریکی نیشنل سکیورٹی ایجنسی بڑے پیمانے پر فون اور انٹرنیٹ کی نگرانی کر رہی ہے۔ اس کے بعد وہ بیس مئی کو ہانگ کانگ چلے گئے تھے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی حکام ایڈورڈ سنوڈن کو امریکہ لے جانے کی کوشش بھی کریں گے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت میں ان پر فردِ جرم عائد کی گئی اور ابتدائی طور پر گرفتار کے وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔

ان پر لگائے گئے الزامات کی زیادہ سے زیادہ سزا دس سال قید ہے۔

البتہ فرد جرم جمعے کے روز منظرِ عام پر آئی تاہم عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ کارروائی چودہ جون کو شروع ہوئی تھی۔

بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی حکام اس معاملے پر کس قدر سنجیدہ ہیں۔

سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے رکن اور ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹربل نیلسن نے اس اقدام کی تعریف کی۔ انھوں نے کہا کہ ’میرے خیال میں یے حرکت بغاوت تھی۔ میں امید کرتا ہوں کہ ہانگ کونگ کی حکومت انہیں حراست میں لے کر ہمارے حوالے کر دے گی۔‘

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ امریکہ اور ہانا کانگ نفاذِ قانون پر ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں تاہم ایڈورڈ سنوڈن کی جانب سے اپیلوں کی وجہ سے ایسا کیس کافی لمبا کچھ سکتا ہے۔

ایڈورڈ سنوڈن کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی حکومت چینی کمپیوٹر نیٹ ورکس میں بھی گھس رہی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے سینیئر حکام کی جانب سے کانگریس کے سامنے ’جھوٹوں کا ایک جال‘ دیکھ کر سامنے آنے کا فیصلہ کیا۔

اس سارے معاملے سے اوباما انتظامیہ کو بہت شرمندگی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں