’فوج خاموش نہیں رہے گی‘ مصری وزیرِ دفاع

Image caption جنرل عبد الفتح الثیثی کا اصرار تھا کہ ملک میں اتفاقِ رائے کا ہونا ضروری ہے

مصر کی فوج نے خبردار کیا ہے کہ وہ ملک میں جاری مظاہروں کی وجہ سے مصر کو ایک ’بے قابو تنازع‘ کا شکار نہیں ہونے دی گے۔

فوج کے سربراہ جنرل عبد الفتح الثیثی جو کہ ملک کے وزیرِ دفاع بھی ہیں، کا یہ بیان ایک ایسے وقت پر سامنے آیا ہے جب حزبِ مخالف آئندہ ہفتے صدر مرسی کے خلاف بڑے مظاہروں کا منصوبہ بنا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج مصر کو ایک ’تاریک سرنگ‘ میں گرنے سے روکے گی۔

گذشتہ سال صدر مرسی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک فوج کا یہ سخت ترین ردِ عمل ہے۔

اتوار کے روز جاری بیان میں جنرل عبد الفتح الثیثی کا کہنا تھا کہ اس موقعے پر فوج خاموش نہیں رہے گی۔

’مصری معاشرے میں ایک واضح تقسیم موجود ہے اور اس کا تسلسل مصری ریاست کے لیے خطرہ ہے۔‘

ان کا اصرار تھا کہ ملک میں اتفاقِ رائے کا ہونا ضروری ہے۔

حزبِ اختلاف تیس جون کو بڑے پیمانے پر مظاہرے کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ تیس جون کو صدر مرسی کو اقتدار سنبھالنے ایک سال مکمل ہو جائے گا۔

حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ انھوں نے صدر مرسی کی برطرفی کی حمایت میں ایک پٹیشن پر ایک کروڑ تیس لاکھ افراد کے دستخط حاصل کر لیے ہیں۔

جمعے کے روز صدر مرسی کے ہزاروں حامیوں نے بھی ملک بھر میں سڑکوں پر مظاہرے کیے اور مظاہرین نے صدر کی حمایت میں نعرے بازی کی۔

یاد رہے کہ مصر کے صوبے اقصیر کے گورنر عادل خایات نے اسلامی گروہ سے مبینہ روابط کا تنازع سامنے آنے کے بعد اپنا عہدے سے چھوڑ دیا ہے۔ صوبے اقصیر کے گورنر عادل خایات اسلامی تنظیم جماعتِ اسلامیہ کے سیاسی شعبے کے رکن ہیں۔ اسی جماعت نے سنہ 1997 میں حملہ کر کے 58 سیاحوں کو ہلاک کر دیا تھا۔عادل خایات نے جماعتِ اسلامیہ کی سیاحوں پر حملے تردید کی تھی اور کہا تھا کہ وہ سیاحوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں گے۔

صدر مرسی کی حکومت کا پہلا سال مسلسل سیاسی بحران اور کمزور معیشت کا شکار رہا ہے۔

کئی مبصرین کا کہنا ہے کہ عدم استحکام اور تشدد کے خطرے کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار اور سیاح مصر آنے سے کتراتے ہیں۔

اسی بارے میں