ڈاکٹر عمران فاروق قتل کیس میں گرفتاری

لندن میٹروپولیٹن پولیس نے پیر کو ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر عمران فاروق کے قتل کے سلسلے میں کینیڈا سے لندن پہنچنے والے ایک شخص کو ہیتھرؤ ایئرپورٹ پر گرفتار کر لیا ہے۔

لندن پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں اِس شخص کی شناخت کے بارے میں تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

پولیس کےبیان میں کہا گیا ہے کہ ہیتھرو ائیرپورٹ سے گرفتار کیے جانے والے شخص کی عمر باؤن سال ہے اور اُسے کینیڈا سے لندن آتے ہوئے گرفتار کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اِس شخص کو ویسٹ لندن کے پولیس سٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے۔

ڈاکٹر عمران فاروق کو جمعرات سولہ ستمبر سنہ دو ہزار دس کو شام کے ساڑھے پانچ بجے گھر جاتے ہوئے ایجویر کی گرین لین میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

ڈاکٹر عمران فاروق کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں اُن کی موت کی وجہ سر پر لگنے والی ضرب اور پیٹ میں تیز دھار آلے سے لگنے والے زخموں کو قرار دیا گیا تھا۔

بعد ازاں پولیس نے جائے وقوعہ سے باورچی خانے میں استعمال ہونے والی پانچ انچ لمبے پھل والی چھری اور ایک اینٹ قبضے میں لے لی تھی جس سے ان کے سر پر ضرب لگائی گئی تھی۔

پولیس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ میٹ پولیس کے انسداد دہشت گردی کے تفتیشی افسران قتل کے اس مقدمے کو حل کرنے کے بارے میں پرعزم ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ یہ قتل انتہائی محتاط منصوبہ بندی سے کیا گیا ہے اور اس میں کئی لوگوں دانستہ یا نادانستہ طور پر ملوث ہو سکتے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کئی لوگوں نے نادانستہ طور پر اس قتل میں معاونت کی ہو۔

پولیس نے مزید کہا کہ وہ ہر اس شحص سے بات کرنا چاہتے ہیں جس کو ڈاکٹر عمران فاروق کے معمولات زندگی کے بارے میں علم ہو یا جسے باروچی خانے میں استعمال ہونے والی اس طرح کی چھری خریدنے کے لیے کہا گیا ہو یا اس سے جائِے وقوعہ سے ملنے والے موبائل فون خریدنے کے بارے میں کہا گیا ہو۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ ان اشخاص سے بھی معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے جنہوں نے واردات والے دن گرین لین میں کوئی مشتبہ کارروائی دیکھی ہو یا اس علاقے سے کسی مشتبہ افراد کو فرار ہوتے ہوئے دیکھا ہو۔

پولیس نے کہا کہ اگر کسی شخص نے کوئی ایسی اطلاع فراہم کی جس سے قاتلوں کی گرفتاری ممکن بنائی جا سکے یا قاتلوں تک پہنچا جا سکے تو اسے بیس ہزار پونڈ انعام کے طور پر دیے جائیں گے۔پولیس نے اپنے بیان میں ٹیلی فون نمبر بھی دیے ہیں جن پر یہ اطلاع دی جا سکتی ہے۔

قبل ازیں پولیس نے گزشتہ ہفتے شمالی لندن کے علاقے میں دو گھروں میں چھاپے مارے تھے اور ان گھروں کی پچپن گھنٹوں تک تلاشی لی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ان گھروں سے دستاویزات اور بہت سا دیگر مواد قبضے میں لیا گیا تھا جس کی تفصیل نہیں بتائی گئی تھی۔

شمالی لندن میں اس طرح کے چھاپوں کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور چند ماہ قبل ایک الطاف حسین کے بزنس ایڈرس پر بھی چھاپہ مارا گیا تھا۔

اسی بارے میں