بحرین: جمہوریت کےلیےسرگرم خاتون کی نئی سزا

Image caption خلیجی ریاست میں زینب خواجہ جمہوریت کی حمایت کرنے والی نمایاں کارکن ہیں۔

بحرین کی ایک عدالت نے جمہوریت کی حامی ایک سرگرم خاتون کو دو ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔ حزب مخالف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ زینب خواجہ کو پولیس حکام کی بے عزتی کرنے کے جرم میں سزا ہوئی ہے۔

زینب خواجہ دیگر جرائم کے تحت سنائی جانے والی سزائیں پوری کرنے کے لیے جیل میں ہیں اور اس حالیہ فیصلے کے بعد وہ فروری 2014 تک جیل میں قید رہیں گی۔

بحرین میں گزشتہ دو برسوں سے ملک میں جمہوری اصلاحات کے لیے مظاہرے ہو رہے ہیں۔ خلیج ریاست میں زینب خواجہ جمہوریت کی حمایت کرنے والے ایک اہم کارکن ہیں۔

رواں برس مارچ میں زینب خواجہ کو ’سرکاری ملازمین کی بے عزتی اور رسوائی‘ کے جرم میں تین ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ اُس کے بعد سے اب تک وہ دیگر جرائم میں کی سزاؤں کے تحت جیل میں قید ہیں۔

اُن کے والد عبداللہ خواجہ بھی جیل میں قید ہیں۔ وہ اُن آٹھ افراد میں شامل ہیں جہنیں حکومتی تختہ الٹنے کے جرم میں عمر قید ہوئی ہے۔

بحرین میں فروری سنہ 2011 سے سیاسی کشیدگی اور جمہوریت کے حق میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔

بحرین میں سنی مسلک سے تعلق رکھنے والے مسلمان شاہی خاندان کی حکومت ہے لیکن بحرین کی آبادی کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ شیعہ افراد حکومت کے جانب امتیازی سلوک برتنے کی شکایت کرتے رہی ہیں۔

14 فروری 2011 ملک میں جمہوری اصلاحات کے لیے مظاہرین جن کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل تھی پرل چوک پر اکٹھے ہو گئے لیکن تین دن کے بعد ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کر کے مظاہرین سے جگہ خالی کروا لی تھی۔

سنہ 2011 میں فروری اور مارچ کے مہینوں میں پرتشدد کارروائیوں میں 5 پولیس اہلکاروں سمیت 35 افراد ہلاک اور سو سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے تھے جبکہ ہزاروں افراد کو جیلوں میں بند کر دیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم افراد کا کہنا ہے اب تک حکومت کے ساتھ تنازعے پر 50 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں