موسمی نظاموں کے ٹکراؤ سے غیرمتوقع بارشیں

Image caption بھارت کی شمالی ریاست اتراکھنڈ میں شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی

پاکستان اور بھارت کے محکمۂ موسمیات کے حکام کے مطابق مخالف سمت سے آنے والے دو موسمی نظاموں کا غیر متوقع ٹکراؤ شمالی بھارت اور مشرقی نیپال میں طوفانی بارشوں کا سبب بنا۔

حکام کے مطابق جنوبی ایشیا سے آنے والے مون سون بارشوں کا نظام مغرب سے آنے والی تیز ہواؤں کا ملاپ حالیہ طوفانی بارشوں کی وجہ بنا ہے۔

بھارت اور پاکستان میں محکمۂ موسمیات کے حکام نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ موسمی نظاموں کے اس خطرناک ملاپ سے تباہ کن سیلاب آ سکتا ہے۔

شمالی بھارت میں آنے والے سیلاب میں اب تک ایک ہزار کے قریب ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے اور وسیع علاقے میں مواصلات کے نظام کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

’غیر متوقع بارشوں کے رجحان میں اضافہ‘

بھارت کے محکمۂ موسمیات کے ڈائریکٹر بی پی یادیہو نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایسا (موسمی نظاموں) کا ملاپ سیزن میں ہو جاتا ہے لیکن اب اس کی شدت اور دورانیہ ایسا تھا جو ہم نے کافی عرصے سے نہیں دیکھا‘۔

انھوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی برس کے دوران پہلی بار موسمی نظاموں کا ٹکراؤ تین دن تک جاری رہا۔

پاکستان میں موسمی ماہرین کا کہنا ہے کہ غیر متوقع طور پر مغربی سمت سے موسمی نظام آیا اور پورے ملک پر چھا گیا۔

پاکستان کے محکمۂ موسمیات کے سابق ڈائریکٹر جنرل قمر الزمان چوہدی نے بتایا کہ سال کے ان دنوں میں اس طرح کا موسمی نظام انتہائی حد تک غیرمعمولی ہے اور گزشتہ چھبیس سال کے دوران پہلی بار ایسا ہوا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان میں عموماً مئی اور جون کا مہینہ خشک ہوتا ہے اور مون سون کا موسم جولائی سے ستمبر تک رہتا ہے۔

قمرالزمان چوہدری نے بتایا کہ ’مغرب سے اکتوبر اور اپریل میں موسمی نظام آتے ہیں لیکن سال میں اس وقت ہم انھیں دیکھ رہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ پورے ملک کے اوپر ہے ہمالیہ کے پہاڑوں سے لے ساحلی علاقوں تک۔‘

انھوں نے کہا کہ صرف اس ایک منفرد واقعے کو ماحولیاتی تبدیلی سے منسلک کرنا مشکل ہے۔

’جب ہم اپنے ملک میں دس سے پندرہ سالوں کے درمیان تیزی سے ماحولیاتی اور موسمی تبدیلیاں دیکھیں تو پھر ہم اس ایک تبدیلی کو باآسانی عالمی ماحولیاتی تبدیلیوں کے ساتھ منسلک کر سکتے ہیں‘۔

ماحولیاتی تبدیلیوں پر تحقیق کرنے والے ایک ادارے پوٹسڈیٹم انسٹیوٹ کے پروفیسر بل ہیر اس بات پر متفق ہیں کہ مغربی ہواؤں اور مون سون کے نظام کا شدید ٹکراؤ ہی طوفانی بارشوں کی وجہ بنا ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ شدید ٹکراؤ سے ہونے والی بارشوں کا تعلق کیا گلوبل وارمنگ یا عالمی سطح پر حدت میں اضافے سے ہے؟

پروفیسر بل کہتے ہیں کہ ’اس مخصوص واقعے میں ہمیں نہیں معلوم لیکن ہم اپنے اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں مستقبل میں ایسے واقعات زیادہ تواتر کے ساتھ ہو سکتے ہیں اور عالمی حدت کے مقابلے میں یہ زیادہ نقصان دہ ہوں گے اور میرا خیال ہے کہ طبعیات کا یہ بہت جامع تجزیہ ہے ‘۔

ماحولیاتی تبدیلی پر مختلف ممالک کے ماہرین پر مشتمل پینل کی چوتھی جائزہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’حدت جو کہ بڑھتی ہوئی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج سے ہو رہی ہے ایشیا میں مون سون کے موسم میں تبدیلی کا باعث ہو سکتی ہے۔ مون سون میں تبدیلی کا مطلب دورانیہ اور شدت ہے جو کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کی تفصیل پر منحصر ہے‘۔

گلوبل وارمنگ سے بارشوں کے اوقات میں تبدیلی آئی یا نہیں اس پر تو ابھی بحث و مباحثہ جاری ہے لیکن فضائی آلودگی نے جنوبی ایشیا میں مون سون موسم کو نقصان پہنچایا ہے۔

ماحولیات پر اقوام متحدہ کی 2011 میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایشیا میں مون سون کے موسم میں تبدیلی لاکھوں افراد کے معاش پر اثرانداز ہوئی ہے۔

مغربی ہواؤں کا سلسلہ جنوبی ایشیا میں کیسے پہنچا اس بارے میں ماہرین ابھی زیادہ نہیں جان پائے ہیں۔

پروفیسر بل کہتے ہیں کہ ’یہ (موسمی نظام) ابھی بھی علاقے میں موجود ہے جو سائنسی طور پر کافی غیر واضح ہے لیکن خطے میں کہیں سے بھی آنے والی نمی اور مون سون نطام سے ٹکرائے تو غالباً اس سے شدید بارشیں ہوں گی‘۔

اسی بارے میں