چین: سنکیانگ میں ہنگامہ آرائی، ستائیس ہلاک

Image caption گذشتہ اپریل میں کاشغر میں ہونے والے ایک واقعے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے

چین کے مغربی علاقے سنکیانگ میں ہنگامہ آرائی کے دوران نو سکیورٹی اہلکاروں اور آٹھ عام شہریوں سمیت ستائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

چین کی سرکاری میڈیا کے مطابق یہ واقعہ تربان کے علاقے میں بدھ کی صبح پیش آیا۔

ملک کی سرکاری خبر رساں ادارے زنہوا نے حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس نے اس وقت فائرنگ کر دی جب چاقوؤں سے مسلح مشتعل ہجوم نے پولیس سٹیشنز اور مقامی حکومت کی عمارت پر حملہ کیا۔

ہنگامہ کرنے والوں نے لوگوں پر چاقو کے وار کیے اور پولیس کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔

چین کے ان علاقوں سے خبر کی تصدیق کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ معلومات کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔

سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق ہنگامہ آرائی میں سترہ لوگ ہلاک ہوئے جن میں نو سکیورٹی اہلکار اور آٹھ سویلین شامل ہیں جس کے بعد دس ہنگامہ کرنے والے افراد پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے۔

زنہوا کے مطابق اس واقعے میں تین مزید افراد زخمی ہوئے جو ہسپتال میں زیرِعلاج ہیں۔

حکام نے کہا کہ تشدد اس وقت شروع ہوا جب اسلحے کی تلاشی کے دوران ایک عمارت سے ’دہشت گرد‘ نکلے لیکن مقامی لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ایک مقامی خاندان کا حکام کے ساتھ بہت عرصے تنازع چل رہا تھا جس کی وجہ سے تشدد ہوا۔

لوگوں نے بتایا کہ حکام اس خاندان پر داڑھیاں منڈوانے اور خواتین کو پردہ نہ کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے تھے۔

سینکیانگ میں مسلم آبادی اقلیت میں ہے اور یہاں پر شدید نسلی فسادات بھی ہو چکے ہیں۔ مسلم اوغر اور ہن چینی کمیونٹی کے درمیان کشیدگی رہتی ہے۔

شمال مغربی اس صوبے میں 2009 کے فساد کے بعد سکیورٹی سخت کر دی گئی تھی۔

یہ فساد سب سے بڑے مسلم اکثریتی گروہ اوغر اور ہن چینی مہاجروں کے درمیان ہوا تھا۔

حکام کے مطابق اس فساد میں کم از کم 200 افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں اکثریت ہنوں کی تھی۔

گذشتہ اپریل میں کاشغر میں ہونے والے ایک واقعے میں 21 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

اسی بارے میں