قرآن کی آن لائن تعلیم پر برطانیہ میں تشویش!

برطانیہ میں رہنے والے بہت سے مسلمان اپنے بچوں کی اسلامی تعلیم کے لیے آن لائن کا رخ کر رہے ہیں۔

بی بی سی ایشیئن نیٹ ورک کی نمائندہ راحیلہ بانو بتاتی ہیں کہ اس سے بعض حلقوں میں یہ تشویش پیدا ہوئی ہے کہ سکائپ کے ذریعے قرآن پڑھنا سیکھنے والے بچوں کو برطانیہ سے باہر موجود گروہ شدت پسندی کے نظریات سکھا سکتے ہیں۔

ابھی اس ضمن میں کوئی سرکاری اعداد و شمار تو موجود نہیں ہیں کہ آن لائن کے ذریعے کتنے لوگ قرآن پڑھ رہے ہیں۔ لیکن یہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانچ سے سولہ سال کی عمر کے کم سے کم 100 بچے آن لائن اسلامی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔

روایتی طور پر بچوں کو سکول کے بعد مدرسے بھیجا جاتا رہا ہے، جہاں وہ عربی لکھنا پڑھنا سیکھتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن پڑھنا سیکھتے ہیں۔

اس کے لیے کئی بار مسجد اور اسلامی مراکز سے منسلک کیا جاتا ہے۔ کئی بار گھر پر ٹیوشن لگا کر اس کی تعلیم دی جاتی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق برطانیہ میں تقریباً ڈھائی لاکھ مسلم بچے اس قسم کے 2000 سے زیادہ تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

راحیلہ بانو بتاتی ہیں کہ آٹھ سال کا حمزہ کئی سال سے اپنے کمرے میں کمپیوٹر کے ذریعے قرآن پڑھنا سیکھ رہا ہے۔ اس دوران اس کی والدہ اس کی نگرانی کرتی ہیں۔ اس نے تین سال پہلے فیض قرآن آن لائن اکیڈمی کے کورس میں داخلہ لیا تھا۔

Image caption اسکائپ کے ذریعہ پڑھائی تو ہوتی ہے لیکن اس میں کوئی ویڈیو نہیں ہوتا۔ اس میں ایسا سافٹ ویئر ضرور ہے جو قرآن کے صفحات کو ظاہر کرتا ہے

حمزہ کو ہر ہفتے آدھے گھنٹے کی تین نششتوں میں شامل ہونا ہوتا ہے۔ اسے آن لائن تعلیم دینے والے مولوی لاہور میں واقع مرکز سے اسے تعلیم دیتے ہیں۔

سکائپ کے ذریعے پڑھائی تو ہوتی ہے لیکن اس میں کوئی ویڈیو نہیں ہوتی۔ اس میں ایسا سافٹ ویئر ضرور ہے جو قرآن کے صفحات کو ظاہر کرتا ہے۔ حمزہ اسے دیکھتے ہوئے پڑھتا ہے، جب وہ غلط تلفظ کرتا ہے تو مولوی اسے ٹھیک کرتے ہیں۔

حمزہ کے والد فواد رانا کے مطابق یہ ایک بہترین طریقہ تعلیم ہے۔ ان کا خاندان برمنگھم کے بیرونی علاقے میں رہتا ہے اور نزدیکی اسلامی مرکز ان کے گھر سے کئی میل کے فاصلے پر ہے۔

فواد رانا کہتے ہیں ’اگر ہم اسے مدرسہ لے جاتے تو ٹریفک میں دو گھنٹے لگتے۔ جب وہ واپس لوٹتا تو کھانے کا وقت ہو جاتا۔ ایسے میں یہ سروس اچھی ہے۔ پیسے بھی زیادہ نہیں دینے پڑ رہے ہیں اور ہم اس کی اس وقت کی نگرانی بھی کر لیتے ہیں۔‘

فواد رانا خوش ہیں کہ ان کا پانچ سال کا بیٹا حمزہ قرآن کو عربی زبان میں پڑھ لیتا ہے۔

اسی طرح صائمہ بی بی شیفيلڈ میں رہتی ہیں۔ انہوں نے اپنی دس سال کی بیٹی کے لیے آن لائن ذریعہ تعلیم کو ترجیح دی ہے۔

صائمہ بی بی کہتی ہیں ’میں اپنی بیٹی کو روایتی مراکز میں نہیں بھیجنا چاہتی تھی۔ وہاں بچوں کے ساتھ مارپیٹ کے بارے میں آپ نے سنا ہی ہوگا۔ اس میں وقت بھی کافی لگتا ہے۔ آپ کے بچے کو سکول سے گھر لانا ہوتا ہے اور پھر اسے مدرسے لے کر جانا ہوتا ہے۔ میں کاروباری ہوں، ایسے میں مجھے لگتا ہے کہ گھر میں اسے تعلیم دینا کہیں زیادہ آسان ہے۔‘

اگرچہ ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ اسلامی تعلیم دینے والے سینکڑوں اساتذہ پاکستان، شام، مصر جیسی جگہوں کے ہیں جو نظریاتی سطح پر اپنے شاگردوں کو سخت گیر بنا سکتے ہیں۔

ایک آن لائن تعلیم دینے والی سروس ’ایزی قرآن میمورائزنگ‘ یعنی قرآن حفظ کرنے کا آسان طریقہ جیسی سروس کو کالعدم شدت پسند تنظیم کے کارکن چلاتے ہیں۔ میاں شاہ زیب پاکستان میں جماعت الدعو‌ۃ کے سٹوڈنٹ ونگ سے تعلق رکھتے تھے۔

ان کا کہنا ہے ’میں کسی قسم کی شدت پسندی کے بارے میں بات نہیں کرتا، کسی تنظیم کے بارے میں بات نہیں کرتا۔ میں قرآن پڑھاتا ہوں اور کچھ اور نہیں۔ میں ایک عام استاد ہوں۔‘

شاہ زیب کا کہنا ہے کہ جب وہ جوان تھے تو شدت پسند تنظیم کے کارکن تھے۔ لیکن اب ان کا اس تنظیم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

امام سلیم گھيسا پریسٹن میں اقراء اسلامک سینٹر چلاتے ہیں جو مکمل طور پر ایک جدید مدرسہ ہے جہاں باقاعدہ کرسیوں، میزوں اور سمارٹ بورڈ کے ذریعے تعلیم دی جاتی ہے۔ مختلف مدارس کی طرح یہ مدرسہ بھی روایتی تعلیم کو جدید طریقے سے دینے کی کوشش کر رہا ہے۔

Image caption ایک اندازے کے مطابق پانچ سے 16 سال کی عمر کے کم سے کم 100 بچے آن لائن اسلامی تعلیم حاصل کر رہے ہیں

سلیم گھيسا کہتے ہیں: ’زیادہ تر اسلامی تعلیم کے ساتھ دقت یہ ہے کہ ان کا مختلف افراد مختلف مطلب نکالتے ہیں۔ شدت پسندوں کے لیے ان کا الگ مطلب ہوتا ہے اور قرآن کی اسی آیت کا ایک جدید شخص کے لیے الگ مطلب ہوتا ہے اور ایک روایت پرست کے لیے الگ۔‘

لاہور سے آن لائن کورس کرانے والی کمپنی فیض قرآن فوج کے ایک سابق کرنل چلاتے ہیں۔ ان کے یہاں 47 برطانوی طالب علم بھی پڑھتے ہیں۔ سلطان چوہدری کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل اپنے سٹاف پر نظر رکھتے ہیں۔

سلطان چوہدری کہتے ہیں ’جو بھی کچھ کہا جاتا ہے وہ ہمارے سرور کے ذریعے جاتا ہے اور اسے مسلسل ریکارڈ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ سب کے سامنے قرآن پڑھاتے ہیں۔ ہم والدین کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ وہ اپنے بچے کی ترقی میں دلچسپی دکھائیں۔‘

برطانیہ کی تقریباً 500 مساجد اور اماموں پر نظر رکھنے والی تنظیم نیشنل ایڈوائزري بورڈ (ميناب) جو برطانیہ کی قریب نصف مساجد پر نگرانی رکھتی ہے اس کے ڈائریکٹر مصطفیٰ فیلڈ کہتے ہیں ’فی الوقت اس بات کے بہت کم ثبوت ہیں کہ ان كورسز کے ذریعے انتہا پسندی کی تعلیم دی جاتی ہے۔ ہم بچوں کو تعلیم کے تمام پہلوؤں سے واقف کرانا چاہتے ہیں تاکہ ان میں فہم و ادراک پیدا ہو، وہ سوال کر سکیں کہ جو وہ پڑھ سن رہے ہیں وہ صحیح ہے یا غلط۔‘

اسی بارے میں