’عوامی خدمات بہتر کرنے کا بڑا موقع ضائع ہوا‘

Image caption بہت سے مظاہرین اس بات پر نالاں ہیں کہ ملک میں انتہائی غربت کے باوجود کثیر رقم سے سٹیڈیم تعمیر کیے جا رہے ہیں

برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو کے میئر نے کہا ہے کہ جب برازیل نے فٹ بال کے 2014 کے عالمی کپ کی میزبانی جیت لی تو یہ ملک میں عوامی خدمات کے شعبے کو بہتر کرنے کے لیے ایک بڑا موقع تھا جو ضائع ہو گیا۔

ریو ڈی جنیرو کے میئر ایڈیارڈو پیس نے بی بی سی کو بتایا کہ برازیل کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں سرمایہ کاری کر لینی چاہیے تھی۔

انھوں نے کہا کہ’برازیل نے عالمی کپ کا ایک بڑا موقع ضائع کر دیا ہے۔ فیفا نے سٹیڈیم تیار کرنے کا کہا اور برازیل نے صرف سٹیڈیم بنائے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اچھے عوامی خدمات بھی مہیا کر دینے چاہیے تھے۔‘

یاد رہے کہ برازیل میں بدعنوانی، بس کے کرایے میں اضافے، خراب عوامی خدمات اور آئندہ سال فٹ بال کے عالمی کپ منعقد کرانے کے لیے زبردست اخراجات کے خلاف ملک گیر مظاہرے جاری ہیں۔

ریو ڈی جنیرو کے میئر کا ماننا ہے کہ ملک میں جاری مظاہرے ملک کی معاشی حالت کی وجہ سے نہیں جو گذشتہ دو سال کے دوران کمزور ہوا ہے،’ہمارے بے روزگاری تقریباً نہیں ہے۔ مظاہروں کی وجہ برازیل میں سماجی شعبوں میں خدمات کی بدحالی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ برازیلی حکام کو عوام کے ساتھ جڑنے کا کوئی طریقہ نکالنا ہوگا۔

’لوگ زیادہ شفافیت اور رسائی چاہتے ہیں اور ہم یہی کرنے جا رہے ہیں۔‘

مظاہرین فٹ کے عالمی کپ اور ریو دی جینیور میں 2016 کے اولمپکس کی تیاری پر خرچ ہونے والی کثیر رقم پر غصہ ہیں۔

برازیل میں ہونے والا کنفیڈریشن کپ بھی ان تیاریوں کا حصہ ہے جس کا انعقاد فیفا نے کیا ہے۔

سپین نے جمعرات کو ہونے والے سیمی فائنل میں اٹلی کو ہرایا اور اب ان کا ریو دی جینیوروں میں اتوار کو فائنل میں مقابلہ برازیل سے ہوگا۔

ریو ڈی جنیرو پورٹو الیگرو اور ملک کے دیگر شہروں میں جمعرات کو مظاہرے ہوئے۔

لیکن سب سے بڑا مظاہرہ ریو ڈی جنیرو میں کنفیڈریشن کپ کے فائنل کے موقع پرمتوقع ہے جہاں مظاہرین سٹیڈیم کی طرف مارچ کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔

ادھر فیفا کا کہنا ہے کہ فٹ بال کا عالمی کپ برازیل ہی میں ہو گا۔

اسی بارے میں