فون ہیکنگ: مدیروں کے خلاف مقدمہ چلے گا

Image caption یہ دونوں مختلف ادوار میں اخبار نیوز انٹرنیشنل کے مدیر رہ چکے ہیں

برطانوی اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے دو سابق مدیروں سمیت پانچ ملازمین کی فون ہیکنگ کے الزامات میں ان کے خلاف مقدمے کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد ہوگئی ہے۔

برطانیہ میں جولائی سال دو ہزار گیارہ میں فون ہیکنگ سکینڈل کے بعد ایک سو اڑسٹھ سال سے شائع اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والا اخبار نیوز آف دی ورلڈ بند ہوگیا تھا۔

لارڈ چیف جسٹس لارڈ جج کی جانب سے اپیل کی درخواست مسترد ہونے کے بعد اس مقدمے کی کارروائی ستمبر سے شروع ہو گی۔

فون ہیکنگ: بروکس اور کولسن پر الزامات عائد

اپیل کی درخواست میں نیوز آف دی ورلڈ کی سابق مدیر ربیکا بروکس اور اینڈی کولسن نے استدعا کی تھی کہ وہ الزامات میں بے قصور ہیں۔

ربیکا بروکس اور اینڈی کولسن سمیت سات افراد پر سکول کی طالبہ ملی ڈاؤلر کے ایس ایم ایس پیغامات تک غیر قانونی طور پر رسائی کی سازش کا الزام ہے۔

نیوز آف دی ورلڈ کے سابق سینئیر رپورٹر جیمز ویدراپ، سابق مینیجنگ ایڈیٹر سٹیورٹ کٹنر اور سابقہ نائب ایڈیٹر ایئن ایڈمنڈسن کی اپیلیں بھی مسترد ہو گئی ہیں۔

پانچوں مدعا علیہ نے درخواست میں کہا تھا کہ مطلوب وصول کنندہ کے سننے کے بعد انہیں وائس میلز تک رسائی حاصل کی تھی اور یہ تحقیقاتی اختیارت ایکٹ دو ہزار کے تحت کوئی جرم نہیں ہے۔

اپیل کورٹ نے اس موقف سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ’مدعا علیہ کے اعتراف کے برخلاف، نتیجتاً قانونی یقین میں کمی نہیں آئی۔‘

لارڈ جج نے مدعا علیہ کے نام شائع کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ’ہم مقدمے کی کارروائی شروع ہونے سے پہلے کوئی بھی تعصب دیکھنا نہیں چاہتے ہیں‘۔

’ہمیں لازمی غیر حقیقی نہیں ہونا چاہیے، اس ملک میں مشکل سے ہی کوئی ایسا ہوگا جسے یہ معلوم نہیں ہوگا کہ یہ کیس کس پر لاگو ہوتا ہے‘۔

اسی بارے میں