براک اوباما جنوبی افریقہ کے دورے پر

امریکہ کے صدر براک اوباما افریقہ کے تین ممالک کے دورے پر جمعہ کو جنوبی افریقہ پہنچے ہیں جہاں وہ جیکب زوما سے ملاقات کریں گے۔

جنوبی افریقہ پہنچنے سے پہلے براک اوباما نے کہا کہ انھیں اس بات کی اُمید نہیں ہے کہ اُن کی نیلسن منڈیلا سے ملاقات ہو پائے گی۔

افریقی ملک سینگال کا دورہ مکمل کرنے کے بعد اوباما نے ائیر فورس ون طیارے میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انھیں نیلسن منڈیلا کے ساتھ تصویر بنوانے کی ضرورت نہیں ہے۔

دریں اثنا نیلسن منڈیلا کی سابق اہلیہ ونی کا کہنا ہے کہ منڈیلا کی صحت میں بہتری آئی لیکن ان کی حالت تاحال نازک ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی صدر براک اوباما کو نیلسن منڈیلا کی نازک حالت کی وجہ سے ان کے ساتھ ملاقات نہیں کرنی چاہیے۔

دوسری جانب جنوبی افریقہ میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پریٹوریا کے ہسپتال کے باہرسخت سکیورٹی ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ کے پہلے سیاہ فام صدر نیلسن منڈیلا 8 جون سے پھیپھڑوں کے انفیکشن کے باعث ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

جنوبی افریقہ کے وزراء، سیاستدانوں، منڈیلا کے معالجین اور ان کے خاندان کے افراد نے جمعہ کو پریٹوریا کے ہسپتال جا کر منڈیلا کی عیادت کی۔

ادھر جنوبی افریقہ میں سینکڑوں افراد نے براک اوباما کی خارجہ پالسی کے خلاف احتجاج کیا تاہم بی بی سی کے نامہ نگار جیمز کوپنل کا کہنا ہے کہ اوباما کو جنوبی افریقہ میں کافی حمایت بھی حاصل ہے۔

امریکی صدر کا طیارہ جمعہ کی شام پریٹوریا کے نزدیک ایک فوجی ایئر بیس پر اترا۔

نامہ نگاروں کے مطابق براک اوباما جنوبی افریقہ کےدورے کے دوران اپنے ہم منصب جیکب زوما سے ملاقات کریں گے۔

اس بات کی بھی اطلاع ہے کہ امریکی صدر روبِن آئی لینڈ کا بھی دورہ کریں گے جہاں نیلسن منڈیلا 18 برس تک قید رہے۔

اوباما نے جنوبی افریقہ پہنچنے کے بعد کہا کہ وہ کسی بھی طریقے سے نیلسن منڈیلا کے سر پر سوار ہونے کے لیے نہیں آئے اور وہ بھی اس وقت جب ان کے خاندان والے ان کی صحت کے بارے میں پریشان ہیں۔

براک اوباما نے کہا کہ وہ منڈیلا کے خاندان کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ میری اور امریکی عوام کی دعائیں اور ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق جنوبی افریقہ کے حکام اور شہریوں نے براک اوباما کی جانب سے ایسے وقت میں ملک کا دورہ کرنے کے فیصلے کی تعریف کی ہے۔

اس سے پہلے جنوبی افریقہ کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کی بیٹی مکازیوی نے کہا تھا کہ اگرچہ ان کی حالت تشویش ناک ہے لیکن وہ اشارے سے بات کا جواب دیتے ہیں۔

انھوں نے ملک کے سرکاری نشریاتی ادارے کو بتایا ’ان کی حالت ٹھیک دکھائی نہیں دیتی۔ میں جھوٹ نہیں بولنا چاہتی۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا کہ جب ہم ان سے بات کرتے ہیں تو وہ اشارے سے جواب دیتے ہیں اور آنکھیں کھولنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ شاید جانے والے ہیں لیکن وہ ابھی تک ہیں‘۔

جمعرات کو ہی جنوبی افریقہ کے صدارتی دفتر کا کہنا تھا کہ گذشتہ دو روز میں نیلسن منڈیلا کی حالت مزید بدتر ہوئی ہے تاہم ان کی پوتی دیلیکا منڈیلانے بعد میں کہا تھا کہ ان کی حالت نازک لیکن ’مستحکم‘ ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما نے ملک کے سابق صدر نیلسن منڈیلا کے ساتھ ہسپتال میں ملاقات کے بعد جمعرات کو اپنا افریقی ملک موزمبیق کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔صدارتی دفتر کے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ گذشتہ دور روز میں نیلسن منڈیلا کی حالت مزید بدتر ہوئی۔

اسی بارے میں